کبھی کبھار بنی آدم کے ہاتھوں ایسی کتاب لگ جاتی ہے۔ جس سے انسان اپنی زندگی کا رخ درست کر سکتا ہے۔ بشرط یہ کہ کتاب پڑھنے کا حق ادا کیا جائے۔ ان نایاب اور انقلاب شدہ کتابوں میں سے ایک شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب حفظہ اللّٰہ کی کتاب “نقوش رفتگاں” ہے۔ جس کا ہر مضمون دوسرے مضمون سے یکسر مختلف ہے۔ گویا کہ ایک مضمون اپنے مد مقابل مضمون پر فخر کرتا ہے۔ کہ حضرت والا دامت برکاتہم العالیہ نے دنیا جہاں کے تمام تر چنیدہ چنیدہ الفاظ، جملے، نئی تراکیب، ضرب الامثال اور محاورے مجھ ہی میں سموئے ہوئے رکھے ہیں۔
کتاب کا اسلوب بیان انتہائی آسان، پر مغز، قریب الفہم اور سلیس ہے۔ ہر ہر پیرا دوسرے پیرا سے الگ ہے۔ اس کے ساتھ اردو اور فارسی ادب سے بھی لیس ہے۔ کتاب میں چنیدہ تراکیب کے علاؤہ اردو، فارسی اور عربی کے اشعار بھی بکثرت پائے جاتے ہیں۔ قاری جب ایک بار کتاب کے پہلے ورق کا سیر کرنا شروع کریں تو “نقوش رفتگاں” کے باغ کے پھولوں، خوبصورت آب شاروں، نایاب وادیوں، صاف اور شفاف ہوا اور ذائقہ دار پھلوں سے گزر کر ہرگز سیراب نہیں ہو سکتا ہے۔ یہاں تک کہ انسان باغ کے آخری سرے کا سیر نہ کریں ۔ بالکل اسی طرح کتاب اپنے قاری کو آخری صفحے تک پڑھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ہاں! کتاب اپنی انفرادیت میں اعلیٰ درجے پر فائز ہونے کی وجہ سے پڑھتے پڑھتے تھکن کا احساس تک نہیں دیتا بلکہ انسان کا جی چاہتا ہے کہ ایک صفحہ اور پڑھ لوں۔۔۔ یہاں تک کہ وہ بغیر تھکاوٹ کے کئی صفحات کا مطالعہ بھی کر چکا ہوگا۔
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب حفظہ اللّٰہ نے اپنی اس نایاب کتاب میں دنیا جہاں کے ان عالمی شخصیتوں کے سوانح حیات لکھے ہیں۔ جنہوں نے اپنی مختصر سی زندگی میں گراں قدر خدمات انجام دیئے ہیں۔ ان میں بعض برصغیر کے وہ چنیدہ چنیدہ علماء ہیں۔ جنہوں نے برصغیر کے علاؤہ پوری دنیا میں دین اسلام کا پرچم بلند کیا ہے۔ جن میں سر فہرست قاری محمد طیب، ظفر احمد عثمانی، آغا شورش کاشمیری، حکیم الامت اشرف علی تھانوی، مولانا سلیم اللّٰہ خان، سید محمد یوسف بنوری، ابوالحسن علی ندوی، مفتی محمد شفیع، مولانا عبد الحق، مولانا سمیع الحق اور شہید اسلام ڈاکٹر عادل خان رحھم اللّٰہ علیھم شامل ہیں۔
کتاب اپنی منفرد متن کے ساتھ جدید اور شائستہ ایڈیشن کی وجہ سے بھی انتہائی مقبول اور قابل مطالعہ ہے۔ بلکہ اگر اس طرح کہا جائے تو نا انصافی کی بات نہیں ہوگی کہ نقوش رفتگاں ہر ہر گھر، تعلیمی ادارہ، دار الافتاء اور ہر عالم دین کی زینت ہے۔ جہاں تک مذکورہ کتاب کے پڑھنے سے بندے کو جتنا علمی، روحانی، اصلاحی اور ادبی فائدہ ہوا ہے۔ اس کا بیان الفاظ میں نہیں کر سکتا! الحمدللّٰہ! زندگی میں پہلی مرتبہ اردو ادب اور عالمی شخصیت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب حفظہ اللّٰہ کی انتہائی ضخیم کتاب “نقوش رفتگاں” کے مطالعہ کی توفیق ہوئی ۔حالانکہ کتاب 852 صفحات پر مشتمل ہے۔ اللّٰہ رب العزت سے دعا ہے کہ اپنے اکابر کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔