ہمارے ہاں ایک المیہ یہ ہے کہ مذہبی حلقے اکثر ایسے معاملات کو غیر ضروری اور غیر معمولی بڑھاوا دے دیتے ہیں جو حقیقت میں کوئی وزن ہی نہیں رکھتے۔ یوں معمولی باتیں بگڑ کر بڑے تنازعات کی شکل اختیار کر لیتی ہیں، اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ صرف معاشرہ انتشار کا شکار ہوتا ہے بلکہ جنھیں نظر انداز کر دینا چاہیے تھا، وہی شخصیات اچانک مرکزی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔آسیہ بی بی کا واقعے پر غور کیجیے۔وہ کھیتوں میں کام کرنے والی ایک عام ان پڑھ خاتون تھی، لیکن ہمارے علما کے مذہبی تنازعے نے اسے عالمی اہمیت دے دی۔
آج یہی غلطی انجینئر محمد علی مرزا جیسے شخص کے حوالے سے دہرائی جا رہی ہے۔ راقم کے نزدیک یہ شخص علمی و فکری اعتبار سے نہایت پست اور کمزور سطح کا آدمی ہے، جسے فقط اگنور کرنے کی ضرورت ہے، لیکن علما نے اسے رفتہ رفتہ ہیرو بنانا شروع کر دیا ہے۔ عام علما تو ایک طرف رہے اب اسلامی نظریاتی کونسل نے اس مسئلے میں غیر ضروری طور پر کود کر اس شخص کو اور اہمیت دے دی ہے۔
ہوتا یہ ہے کہ اس طرح کی فتوے بازی جس کے خلاف کی جاتی ہے، چونکہ اکثر غیر ضروری ہوتی ہے، اس لیے وہ ہدف تنقید بنتی ہے، نتیجتاً جس پر تنقید ہوتی ہے اس کے لیے الٹا بہت سے نوجوانوں اور عوام میں ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے، کہ اس کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ یوں بالواسطہ ایسے لوگوں کی فالونگ بڑھانے میں ہمارے مذہبی علما کا بنیادی رول شامل ہو جاتا ہے۔
واضح رہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا بنیادی آئینی دائرہ کار حکومت کو قانون سازی کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ وہ کسی شخص کے خلاف کسی فتوے یا سزا تجویز کرنے کا اختیار نہیں رکھتی ۔ لیکن حالیہ پریس ریلیز میں کونسل نے انجینئر محمد علی مرزا کے بارے میں جو تجاویز دی ہیں وہ چونکہ غیر ضروری ہیں ، اس لیے ان پر تنقید بھی ہو رہی ہے ۔ اب تنقید کرنے والوں کا مقصد عمومی طور پر یہ ہر گز نہیں کہ انجینئر محمد علی مرزا کوئی بڑی عظیم علمی اور پہنچی ہوئی شخصیت ہے، اور اس سے کوئی غلطی نہیں ہوئی۔لیکن عام عوام تک بالواسطہ یہی صورت پہنچ رہی ہے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔
چیئرپرسن اسلامی نظریاتی کونسل محترم ڈاکٹر راغب حسین نعیمی ایک معتدل علمی گھرانے کے وارث ہیں ان کی قیادت میں کونسل کی طرف سے ایسے فیصلے اور پریس رلیز کونسل کے وقار کے لیے سخت نقصان دہ ہیں۔ ایک ایسا ادارہ جسے قوم کو بڑے چیلنجز پر رہنمائی دینی چاہیے تھی، وہ معمولی سطح کے معاملات میں الجھ کر اپنی توانائیاں ضائع کر رہا ہے۔ چیئرپرسن صاحب کو اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔