اردو ادب میں بعض کتابیں روایتیعکس کے طور پر نہیں لکھی جاتیں، بلکہ اچانک مصنف کے ذہن کے دروازے پر دستک دیتی ہیں، اور اگر دروازہ نہ کھلے تو اسے اندر سے ہلا دیتی ہیں۔ ڈاکٹر نیاز علی محسن مگھیانہ کی کتاب”ا۔ ب۔ پ! صرف بالغوں کے لیے“بھی ایسی ہی ایک تحریر ہے۔ یہ کتاب محض عنوان کے سبب چونکاتی نہیں، بلکہ اپنے مندرجات، اسلوب اور فکری تہہ داری کے باعث قاری کو دیر تک بے چین رکھتی ہے۔ہمارا سماج بالغوں سے بھرا ہوا ہے، مگر شعوری بالغ شاید انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ جسمانی بلوغت کو ہم نے عمر کے ساتھ مشروط کر دیا ہے، مگر ذہنی، اخلاقی اور سماجی بلوغت آج بھی ایک نایاب شے ہے۔ محسن مگھیانہ اسی خلا کو موضوع بناتے ہیں۔ یہ کتاب بھی ایسی ہی ایک تصنیف ہے جو محض قاری سے نہیں پورے معاشرتی شعور کی بات کرتی ہے۔ یہ کتاب ہمیں چونکاتی اس لئے نہیں کہ اس کا عنوان جرات مندانہ ہے، بلکہ اس لئے کہ اس کے اندر موجود سوالات ہمارے معمولات کو غیر محفوظ بنا دیتے ہیں۔وہ ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ بالغ ہونا ایک حیاتیاتی عمل ضرور ہے، مگر بالغ رہنا ایک مسلسل فکری جدوجہد ہے۔یہ کتاب کسی مدرسے کی نصیحت نہیں، کسی منبر کی تقریر نہیں، اور کسی عدالت کا فیصلہ بھی نہیں۔ یہ ایک آئینہ ہے، جس میں دیکھنے کے لیے آنکھوں کے ساتھ حوصلہ بھی درکار ہوتا ہے۔محسن مگھیانہ کا سب سے بڑا ہنر یہ ہے کہ وہ کڑوی سچائی کو طنز کی مٹھاس میں ڈبو کر پیش کرتے ہیں۔ ان کا طنز نہ چیختا ہے، نہ گالی بنتا ہے، بلکہ مسکراتے ہوئے قاری کے ضمیر میں اتر جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قاری ہنستے،ہنستے رک جاتا ہے، اور پھر سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ وہ کس بات پر ہنس رہا تھا۔
ہمارا سماج تضادات کا مجموعہ ہے۔ ہم زبان سے اخلاقیات کے علمبردار ہیں، مگر عمل میں سہولت کے غلام ہیں۔ ہم بچوں سے سچ بولنے کی توقع کرتے ہیں، مگر خود سچ کو موقع کی مناسبت سے بدل دیتے ہیں۔ محسن مگھیانہ اسی تضاد کو اپنی کتاب کا مرکزی حوالہ بناتے ہیں۔کتاب کے صفحات میں بکھرے موضوعات بظاہر جدا جدا نظر آتے ہیں، مگر درحقیقت ایک ہی مرکزی نکتے کے گرد گھومتے ہیں۔ہم ایک منافق سماج میں جی رہے ہیں، جہاں سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بننا تہذیب کہلاتا ہے۔ صفحہ نمبر 39 پر مصنف گویا ہوتے ہیں کہ ”بالغوں کی دنیا میں سچ کے نام پر سب سے زیادہ جھوٹ بولا جاتاہے۔“ یہ جملہ سماجی منافقت کی بہترین تشریح ہے۔ جو طاقت میں ہے وہی بیانیہ بناتا ہے۔ جمالیاتی نقطہ نظر سے اس جملے میں طنز سے جہاں مسکراہٹ آتی ہے، وہیں تلخی بھی باقی رہ جاتی ہے۔مصنف ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مزاح محض ہنسی کا نام نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ فکری ہتھیار بھی ہو سکتا ہے۔ ان کا مزاح اخلاقی لیکچر نہیں، سوال بنتا ہے۔
محسن مگھیانہ کی تحریر کا بڑا وصف یہ ہے کہ وہ قاری کو کمتر نہیں سمجھتے۔ وہ جانتے ہیں کہ کتاب کا قاری محض تفریح نہیں فہم بھی چاہتا ہے۔ اسی لئے ان کا طنز بلند آواز نہیں، بلکہ اندر تک اتر جانے والا ہے۔مصنف نے جنسی موضوعات کو جس شائستگی کے ساتھ چھیڑا ہے، وہ اردو ادب میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہاں نہ فحاشی ہے، نہ واعظانہ پردہ داری، بلکہ ایک باشعور قاری سے مکالمہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب کا“صرف بالغوں کے لیے”ہونا دراصل عمر کی قید نہیں، بلکہ شعور کی شرط ہے۔صفحہ 35 پر مصنف لکھتے ہیں کہ ”ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ہر شخص بالغ ہے، مگر رد عمل اب بھی بچوں والا ہے“۔ یہ دونوں خیال ہمارے اجتماعی رویے پر مختصر مگر کاری ضرب ہے۔ مصنف یہاں کسی فرد پر الزام نہیں دھرتا، بلکہ ایک ذہنی کیفیت کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ جملہ اس لئے بھی اہم ہے کہ یہ روز مرہ کی خبروں، سیاسی مباحث اور سماجی تنازعات کی اصل وجہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جمالیاتی طور پر یہ جملہ اپنی سادگی میں وزن رکھتا ہے جو اچھی نثر کی پہچان ہے۔
اس کتاب کا جمالیاتی حسن اس کی بے ساختہ سچائی میں پوشیدہ ہے۔ محسن مگھیانہ قاری کو متاثر کرنے کے لیے ثقیل الفاظ، فلسفیانہ اصطلاحات یا ادبی نمائش کا سہارا نہیں لیتے۔ ان کی زبان روزمرہ کی ہے، مگر فکر غیر معمولی۔ یہی امتزاج ان کی نثر کو مؤثر بناتا ہے۔اگر دیکھا جائے تو یہ کتاب ہمارے معاشرتی بیانئے پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ہم کس چیز کو اخلاق کہتے ہیں؟ ہم کن باتوں پر خاموشی اختیار کرتے ہیں، اور کن باتوں پر شور مچاتے ہیں؟ ہم بچوں کو کیا سکھاتے ہیں، اور خود کیا کرتے ہیں؟یہ کتاب ان تمام سوالات کو چیخ کر نہیں، بلکہ مسکرا کر پوچھتی ہے، اور یہی اس کی سب سے خطرناک خوبی ہے۔کتاب کے صفحہ نمبر 37پر مصنف لکھتے ہیں کہ ”جن موضوعات پر ہم خاموشی کو تہذیب سمجھتے ہیں، وہی ہمارے اندر بے چینی کو جنم دیتے ہیں۔“ یہ اقتباس ہمارے سماجی رویوں پر سوال ہے۔ ہم کن باتوں پر بات نہیں کرتے؟ کن موضوعات کو ممنوع سمجھ لیا گیا ہے؟ مصنف یہاں ہمیں بتاتے ہیں کہ دبایا گیا سوال کبھی ختم نہیں ہوتا، وہ صورت بدل کر لوٹتا ہے۔ تحریر کا حسن اسی بات میں ہے کہ مصنف چیخے بغیر بات کہہ دے، قاری کو سوچنے پر مجبور کرے، فیصلہ نہ سنائے، اور یہ کتاب اسی روایت کی توسیع ہے۔
محسن مگھیانہ کا مزاح محض قہقہہ نہیں، بلکہ احتساب ہے۔ وہ ہنسا کر ہمیں ہمارے اصل چہرے سے ملواتے ہیں۔ ان کے کردار، مشاہدات اور مثالیں ہمیں اجنبی نہیں لگتیں، کیونکہ وہ ہمارے ہی گھروں، گلیوں، دفاتر اور محفلوں سے اٹھائی گئی ہیں۔ادبی سطح پر دیکھا جائے تو یہ کتاب اردو نثر کے اس رجحان کی نمائندہ ہے جو قاری کو کمتر نہیں سمجھتا۔ مصنف قاری کو یہ نہیں بتاتا کہ کیا سوچنا ہے، بلکہ اسے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہی جدید اور بالغ ادب کی پہچان ہے۔صفحہ نمبر 43 پرمصنف کہتے ہیں کہ ”ہم بچوں کو وہ سبق پڑھاتے ہیں جس پر ہم نے خود کبھی عمل نہیں کیا۔“ یہ خیال ہمارے تعلیمی اور خاندانی نظام دونوں پر سوال اٹھاتا ہے۔ ہم نصاب تو بناتے ہیں، مگر کردار نہیں۔ اس جملے میں طاقت ایک جمالیاتی سچائی ہے، جو کسی فلسفیانہ اصطلاح کی محتاج نہیں۔یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ بالغ ہونا صرف آزادی نہیں، بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔
ڈاکٹر نیاز علی محسن مگھیانہ کا ادبی سفر، جس میں سفرنامہ، مزاح، شاعری اور نثر سب شامل ہیں، اس کتاب میں اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ چونتیسویں کتاب لکھنے والا قلم کار یہاں محض تجربہ کار نہیں، بلکہ فکری طور پر بے خوف دکھائی دیتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ کیا کہنا ہے، کیسے کہنا ہے، اور کہاں رک جانا ہے۔یہ کتاب ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہر بات کو چھپانا شرافت نہیں، اور ہر بات کو کہنا بھی دانشمندی نہیں۔اصل کمال یہ جاننا ہے کہ کیا بات، کس انداز میں، کس قاری کے لیے کہی جائے۔ محسن مگھیانہ اس توازن کو بخوبی نبھاتے ہیں۔“ا ب پ! صرف بالغوں کے لیے”ہمارے سماجی مکالمے کی ایک اہم دستاویز ہے۔صفحہ 45 پر مصنف لکھتے ہیں کہ ”اخلاقیات ایک ایسا لباس ہے جو مجمع میں پہنا جاتا ہے اور تنہائی میں اتار دیا جاتا ہے۔“ یہ تشبیہہ مصنف کی فنی گرفت کا ثبوت ہے۔ لباس کی علامت کے ذریعے اخلاقیات کے دوہرے معیار کو نہایت نفاست سے پیش کیا گیا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں ادب سماجی تنقید بن جاتا ہے۔
یہ کتاب ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم ادب کو محض تفریح نہیں، بلکہ سماجی شعور کا ذریعہ سمجھیں۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے نہیں جو عمر کے حساب سے بالغ ہے، بلکہ صرف اس کے لیے ہے جو سوال اٹھانے کا حوصلہ رکھتا ہے، اور آئینے میں اپنا عکس دیکھنے سے نہیں گھبراتا۔مصنف صفحہ نمبر 47 پر لکھتے ہیں کہ ”بالغ ہونا اس حقیقت کو مان لینا ہے کہ ہم مکمل نہیں، مگر جواب دہ ضرور ہیں۔“ یہ خیال کتاب کا فکری نچوڑ ہے۔ مصنف قاری کو مایوس نہیں کرتا، بلکہ ذمہ داری کا شعور دیتا ہے۔ جمالیاتی طور یہ جملہ امید اور احتساب کا حسین امتزاج ہے، جو قاری کو بند گلی میں نہیں لے جاتا۔
یہ کتاب اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ ہمیں اپنے اجتماعی رویوں پر نظر ثانی کا موقع دیتی ہے۔ یہ کتاب اشتعال انگیز نہیں، بلکہ فکری طور پر جرات مندانہ مکالمہ رکھتی ہے۔ محسن مگھیانہ نے اس کتاب کے ذریعے اردو ادب میں بالغ مکالمے کی ایک نئی روایت قائم کی ہے۔انہوں نے اردو ادب میں بالغ قاری کے شعور پر اعتماد کیا ہے، جو ایک خوش آئند روایت ہے۔ یہ کتاب پڑھی نہیں جاتی، سوچی جاتی ہے، اور یہی اس کی اصل کامیابی ہے۔یہ کتاب ایک اعلان نہیں، سوال ہے، یہ سوال ہم سے پوچھا گیا ہے۔ کیا ہم واقعی بالغ ہیں؟ یا صرف عمر کے ہندسے پورے ہو رہے ہیں؟ ڈاکٹر نیاز علی محسن مگھیانہ کی یہ تصنیف ہمیں ہنساتے ہوئے سوچنے پر مجبور کرتی ہے، اور یہی اچھے ادب کی اصل پہچان ہے۔یہ کتاب ادبی مباحث، سماجی مکالمے اورسیاسی شعور تینوں کیلئے ایک قیمتی اضافہ ہے۔