نئی نسل ‘پوسٹ-لٹریٹ بن سکتی ہے’، دنیا بھر میں مطالعے کی عادات میں کمی پر مصنفین کو تشویش

دنیا بھر میں کتابوں اور روایتی مطالعے کی عادات میں کمی دیکھنے کے بعد برطانوی مصنف اور پوڈکاسٹر ڈومینک سینڈبروک نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو مستقبل میں ایک ایسی نسل سامنے آ سکتی ہے جو پڑھنےلکھنے کے شوق سے عاری ہوگی۔

سینڈبروک نے اپنے ایک کالم میں بتایا ہے کہ مختلف سروے اور مطالعات میں واضح ہوا ہے کہ بچے اور نوجوان اب روزمرہ میں کتابیں پڑھنے سے بہت کم دلچسپی لے رہے ہیں، خاص طور پر سکرین اور سوشل میڈیا کے نشے میں الجھ جانے کی وجہ سے مطالعہ پس منظر میں چلا گیا ہے۔ کئی تحقیقی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بچے اور بالغ دونوں اب تفریح یا ذاتی دلچسپی کے لیے کم کتابیں پڑھتے ہیں، اور یہ رجحان خاص طور پر نوجوان لڑکوں میں زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے۔

سینڈبروک نے کہا ہے کہ کتابیں صرف معلومات کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی تخیل کو وسعت دینے، ہمدردی بڑھانے اور دنیا کو مختلف زاویوں سے سمجھنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ان کے مطابق جب لوگ صرف سکرین پر مشتمل مختصر مواد تک محدود رہ جائیں گے تو ان کی سوچ بھی تنگ ہو جائے گی اور وہ گہرائی میں جانے والے مطالعے سے محروم ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے اس تبدیلی کو نہ روکا تو کتابیں پڑھنا ایک غیر معمولی شوق بن کر رہ جائے گا ، جیسے آج کچھ رجحانات کھیل یا مشغلوں تک محدود ہو چکے ہیں۔ اس لیے اب وقت ہے کہ معاشرے میں کتابیں پڑھنے کے لطف اور قدر کو دوبارہ اجاگر کیا جائے، نہ کہ اسے ختم ہوتے دیکھا جائے۔

اسی مقصد کے تحت سینڈبروک اور ان کی ساتھی ٹابیٹھا سوریٹ نے ایک نیا ہفتہ وار پوڈکاسٹ “دی بک کلب” شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں دنیا بھر کی مشہور ادبی تصانیف، ناول اور کہانیوں پر بات کی جائے گی۔ اس پروگرام کا مقصد لوگوں کو دوبارہ کہانیوں، کرداروں اور ادب کے حسن سے جوڑنا ہے، تاکہ پڑھنے کی عادات کی بحالی میں مدد ملے۔

ہر ہفتے اس پوڈکاسٹ میں ایک نئی کتاب پر تبصرہ، مصنف کے بارے میں پس منظر اور ادبی گفتگو ہوگی، جس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ کتابیں “صرف پڑھنے کا فرض” نہیں بلکہ مسلسل لطف اور ذہنی ترقی کا زبردست ذریعہ بھی ہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں