جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کہا ہے کہ ملک کے بینکوں کو نشانہ بنانے والے بعض حالیہ سائبر حملوں میں مصنوعی ذہانت، یعنی AI، کے استعمال کے آثار سامنے آئے ہیں، جس کے بعد انھوں نے AI کے دور کے مطابق سائبر سکیورٹی نظام تیار کرنے پر زور دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر لی جے میونگ نے کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ بعض ہیکنگ واقعات میں AI کے استعمال کے اشارے ملے ہیں، جس سے عوام میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔ انھوں نے متعلقہ اداروں کو واقعات کی فوری اور واضح تحقیقات کرنے اور ممکنہ نقصان کو محدود کرنے کے لیے افرادی قوت اور وسائل استعمال کرنے کی ہدایت کی۔
جنوبی کوریا کی پولیس نے متعدد کمرشل بینکوں پر سائبر حملوں اور صارفین کی ذاتی معلومات کے افشا ہونے کے معاملے کی وسیع تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق شنہان بینک اور کے بی کوکمِن بینک سمیت متعدد مالیاتی اداروں نے سائبر حملوں کی اطلاع دی، جبکہ ہانا بینک اور ووری بینک میں بھی ڈیٹا کی خلاف ورزی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
تاہم حکام نے ابھی یہ واضح نہیں کیا کہ مبینہ ہیکنگ میں کس نوعیت کے AI ٹولز استعمال کیے گئے یا سائبر حملوں سے مجموعی طور پر کتنا ڈیٹا متاثر ہوا۔ جنوبی کوریا کے مالیاتی نگران اداروں نے حالیہ ہیکنگ کی کوششوں سے منسلک 28 منفرد آئی پی ایڈریسز اور ان سے متعلق بعض ممالک کی معلومات مالیاتی شعبے کے اداروں کے ساتھ شیئر کی ہیں۔
جنوبی کوریا کے صدر نے مالیاتی اداروں کو سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ AI کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ سائبر سکیورٹی کے طریقہ کار کو بھی نئی ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔