‘لوکس میکسنگ’، مَردوں کی ظاہری خوبصورتی سے متعلق یہ نیا متنازع رجحان کیا ہے؟

دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر ایک نیا اور متنازع رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے جسے “لوکس میکسنگ” کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کے حامیوں کا ماننا ہے کہ زندگی میں کامیابی، دولت اور سماجی حیثیت حاصل کرنے کی اصل کنجی جسمانی خوبصورتی ہے۔ ان کے مطابق، بہتر شکل و صورت نہ صرف تعلقات بلکہ پیشہ ورانہ کامیابی میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔

اسی سوچ کو نمایاں کرنے والے نوجوان امریکی اسٹریمر بریڈن پیٹرز ہیں، جو آن لائن دنیا میں کلاویکولر کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ بیس سالہ بریڈن پیٹرز اپنی ویڈیوز میں چہرے کے خدوخال کو سائنسی پیمانوں پر جانچتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مخصوص تناسب اور ہم آہنگی ہی مردانہ کشش کی بنیاد ہیں۔ وہ جبڑے کی چوڑائی، آنکھوں اور منہ کے درمیان فاصلہ اور چہرے کی ساخت کو ناپ کر درجہ بندی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ عوامل کسی مرد کی کشش اور حتیٰ کہ اس کی زندگی کی کامیابی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اداکار میٹ بومر کو “مکمل” مردانہ چہرے کی مثال قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اسی معیار تک پہنچنے کے لیے سرجری کروانے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ ان کے بقول خوبصورتی حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانا درست ہے۔ اسی سوچ کے تحت وہ کم عمری سے ہارمونز، اسٹیرائیڈز اور مختلف ادویات استعمال کرنے کا اعتراف کر چکے ہیں تاکہ اپنی ظاہری شکل کو مزید نمایاں بنا سکیں۔ اس کمیونٹی میں اس عمل کو “اسینڈ کرنا” کہا جاتا ہے، یعنی مسلسل زیادہ پرکشش بنتے جانا۔

کلاویکولر کی ویڈیوز ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور ایکس جیسے پلیٹ فارمز پر وائرل ہو چکی ہیں۔ وہ اکثر دیگر مردوں کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنی ظاہری برتری ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور لوگوں کی شکل و صورت پر سخت تبصرے بھی کرتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، وہ اسٹریمنگ پلیٹ فارم کِک سے ماہانہ ایک لاکھ ڈالر سے زائد کماتے ہیں۔ ان کے زیادہ تر ناظرین نوجوان مرد ہیں جو یہ سمجھنے لگے ہیں کہ بہتر شکل و صورت ہی بہتر زندگی کی ضمانت ہے۔ خود کلاویکولر کا کہنا ہے کہ لوگ ان کی ڈیٹس اس لیے دیکھتے ہیں کیونکہ وہ خود تعلقات بنانے میں ناکام رہتے ہیں۔

تاہم یہ رجحان شدید تنقید کی زد میں بھی ہے۔ کلاویکولر پر نسلی تعصب، نفرت انگیز زبان کے استعمال اور متنازع شخصیات سے روابط کے الزامات لگ چکے ہیں۔ ایک موقع پر انہیں جعلی شناختی کارڈ اور ممنوعہ ادویات رکھنے کے الزام میں گرفتار بھی کیا گیا، اگرچہ بعد میں مقدمہ ختم کر دیا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کا انداز نوجوانوں میں عدم تحفظ اور جسمانی بے اطمینانی کو بڑھا سکتا ہے۔

سماجی ماہرین کے مطابق لوکس میکسنگ دراصل ایک بڑے سماجی مسئلے کی علامت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا نے نوجوانوں میں ظاہری مقابلے کو بڑھا دیا ہے اور مردانہ شناخت کو صرف جسمانی خوبصورتی سے جوڑا جا رہا ہے، جس سے ذہنی دباؤ اور خود اعتمادی کے مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ کچھ تجزیہ کار اسے ڈیجیٹل دور میں نوجوان مردوں کے بحران کی ایک شکل قرار دیتے ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ تنازعات کے باوجود کلاویکولر کی مقبولیت کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے۔ حال ہی میں وہ نیویارک فیشن ویک میں ماڈل کے طور پر شریک ہوئے اور اپنی قانونی مشکلات سے بچ نکلنے کا کریڈٹ بھی اپنی شکل و صورت کو دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جو رجحان کبھی انٹرنیٹ کے محدود گروپس تک تھا، اب معاشرے کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ ایسے میں یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ کیا خوبصورتی واقعی کامیابی کی کنجی ہے یا یہ سوشل میڈیا کی پیدا کردہ ایک نئی نفسیاتی دوڑ ہے جس میں نوجوان تیزی سے شامل ہو رہے ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں