صحرائے صحارا میں نایاب ڈائنوسار کے فوسلز دریافت

سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے شمالی نائیجر کے دور افتادہ صحرا میں مچھلی کھانے والے دیوہیکل ڈائنوسار کے فوسلز دریافت کیے ہیں۔

یہ مقام جینگوبی کہلاتا ہے اور صحرائے صحارا کے وسط میں واقع ہے۔ یہاں تک پہنچنا ماہرین کے لیے آسان نہیں تھا۔ قریبی علاقے کا نام سیریگ تاغات ہے، جس کا مقامی زبان میں مطلب’نہ پانی، نہ بکری‘ ہے۔

ماہرین نے 2022 میں تین روزہ دشوار صحرائی سفر کے بعد اس مقام تک رسائی حاصل کی۔ انہیں یہاں ‘سپائنو سارس میرا بیلس’ نامی ڈائنوسار کی باقیات ملیں، جو زمین پر چلنے والے سب سے بڑے گوشت خور ڈائنوسارز میں شمار ہوتا ہے۔

تحقیقی ٹیم شکاگو یونیورسٹی کے ماہرِ ارضیات پال سیرینو کی قیادت میں شہر اگادیس سے روانہ ہوئی تھی۔جینگوبی کے اطراف سینکڑوں کلومیٹر تک کوئی مستقل آبادی موجود نہیں۔

ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈینیئل وِڈال کے مطابق علاقے تک جانے کے لیے کوئی سڑک موجود نہیں۔ پانی کے کنویں بھی نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کے باعث مقامی خانہ بدوش بھی وہاں کم ہی جاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ قافلے کو ریت کے ٹیلوں سے گزرنے میں خاصی مشکلات پیش آئیں اور سامان سے بھرا ٹرک بار بار ریت میں دھنس جاتا تھا۔ تاہم مقام پر پہنچتے ہی تھکن اس وقت ختم ہو گئی جب ابتدائی کھدائی میں ہی نئے فوسلز ملنا شروع ہو گئے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں