بارش اس دن کچھ زیادہ ہی پرجوش تھی۔صبح سویرے جب گلی کے نکڑ پر نیم کے درخت سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، مستری اللہ دتہ نے اپنی بوسیدہ چادر کو ذرا اور سمیٹ لیا۔ وہ حسبِ معمول کام پر نکلنے کے لیے تیار تھا، مگر بارش رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
وہ چند لمحے دروازے پر کھڑا رہا، اور بارش رکنے کا انتظار کرتا رہا ، مگر بارش نہ رکی ۔ بلآخر وہ سرگوشی کرتے ہوئے گھر کو واپس مڑ گیا ۔
“آج بھی دیہاڑی گئی “
گھر میں اس کی بیوی، زینب، چولہے کے پاس بیٹھی تھی۔ لکڑیاں گیلی تھیں، دھواں زیادہ اور آگ کم تھی۔ اس نے سر اٹھائے بغیر جواب دیا،
“آپ پریشان مت ہو ، کل کے بچے ہوئے آٹے سے دو روٹیاں بن جائیں گی… پھر اللہ مالک ہے۔”
اللہ دتہ خاموش ہو گیا۔ اس کے تین بچے کمرے کے کونے میں سکڑے بیٹھے تھے۔ ان بچوں کیلئے یہ منظر نیا نہیں تھا ۔متعدد بار وہ یہ صورتحال دیکھ چکے تھے ۔بارش کی بوندیں ٹین کی چھت پر ایسے برس رہی تھیں جیسے کوئی مسلسل یاد دلا رہا ہو کہ تمہیں ابھی مزید انتظار کرنا ہے ۔
اسی وقت، ایک جگمگاتے اور روشنیوں والے شہر میں ،شیشے کی دیواروں والے وسیع کمرے میں، ایک نوجوان اپنے کمپیوٹر پر جھکا ہوا تھا۔ اس کے سامنے ایک بڑی اسکرین پر مریخ کی سطح کی تصاویر ابھر رہی تھیں۔
“ہم اگلے سال انسان کو مریخ پر اتار سکتے ہیں…”
وہ پُرجوش لہجے میں کہہ رہا تھا۔کمرے میں موجود لوگوں نے تالیاں بجائیں۔ ایک سرمایہ کار نے مسکراتے ہوئے کہا،”انسانیت ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے” کسی نے نہیں پوچھا کہ زمین پر انسان کس دور میں جی رہا ہے۔
اللہ دتہ نے دوپہر تک بارش رکنے کا انتظار کیا۔ پھر ہمت کر کے باہر نکلا۔ گلی میں کیچڑ تھا، پانی گھٹنوں تک جمع تھا۔ وہ ایک زیرِ تعمیر عمارت کی طرف چل پڑا، شاید کوئی کام مل جائے۔وہاں پہنچا تو ٹھیکیدار نے دور سے ہی ہاتھ اٹھا دیا،
“آج کام نہیں ہوگا، سیمنٹ خراب ہو جائے گا۔”
اللہ دتہ نے سر ہلا دیا، جیسے یہ جملہ اس کے لیے نیا نہ ہو۔واپسی پر اس نے ایک دکان کے باہر لگے ٹی وی اسکرین پر نظر ڈالی۔ خبر چل رہی تھی۔
“دنیا کے امیر ترین افراد نے چاند پر سیاحت کے نئے منصوبے کا اعلان کر دیا “ ٹی وی پر مسکراتے چہرے تھے، خوشی کے نعرے تھے، اور خلا کی وسعتوں میں اڑنے کے منصوبےتھے۔
اللہ دتہ نے ایک لمحے کو آسمان کی طرف دیکھا۔ وہی آسمان جو اس پر برس رہا تھا، وہی آسمان جس کے پار جانے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔
وہ ہنس دیا، ایک ایسی ہنسی جو ہنسی کم اور اپنے حال پر ماتم زیادہ تھی۔
رات کو زینب نے بچوں کو آدھی آدھی روٹی کھلائی۔ خود اس نے کچھ نہیں کھایا۔
“میرا دل نہیں چاہ رہا” اس نے بہانہ بنایا۔اللہ دتہ نے کچھ کہنا چاہا، مگر الفاظ اس کے گلے میں ہی کہیں اٹک گئے۔باہر بارش اب بھی جاری تھی۔
اسی رات، ایک خلائی مرکز میں روشنیوں کا سیلاب تھا۔کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا تھا۔”ٹین… نائن… ایٹ…”۔ ایک راکٹ آسمان کی طرف بڑھنے کو تیار تھا، انسانوں کو ستاروں کی سیر کروانے کیلئے” تھری… ٹو… ون…”راکٹ نے زمین کو چھوڑ دیا۔
اللہ دتہ کے کمرے میں بھی ایک کاؤنٹ ڈاؤن جاری تھا، مگر یہ کسی امید کا نہیں، بھوک کا تھا۔بچوں کی سانسیں دھیمی ہو رہی تھیں اور وہ مزید روٹی کا تقاضا کر رہے تھے ۔ زینب کی آنکھیں بے بسی سے بند تھی “واہ میریا مالکا تیرے رنگ نیں “ اور اللہ دتہ چھت کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔اس نے دل ہی دل میں سوچا” شاید کسی دن ہم بھی اس آسمان تک پہنچ جائیں” پھر خود ہی مسکرا دیا، کیونکہ اسے معلوم تھا۔
اس کے حصے کا آسمان صرف بارش برساتا ہے،
اور دوسروں کے حصے کا آسمان انہیں چاند تک لے جاتا ہے۔
کہانی ختم نہیں ہوئی۔ یہ تو بس ہر بارش کے ساتھ دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔
ذبیح اللہ بلگن