موہن جو دڑو میں شہری زندگی کا آغاز 3300 قبل مسیح میں ہوا، تحقیق میں انکشاف

پاکستان کے صوبہ سندھ کے قدیم شہر موہن جو دڑو میں حالیہ کھدائیوں اور نئے سائنسی تجزیوں سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ یہاں شہری آبادی کا آغاز پہلے سمجھے جانے والے دور سے بھی قدیم ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق، نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ موہن جو دڑو میں شہری زندگی کا آغاز کوٹ ڈیجی دور (تقریبا 3300سے 2600 قبل مسیح) میں ہی ہو چکا تھا۔ نیشنل فنڈ برائے موئن جو دڑو کی تکنیکی مشاورتی کمیٹی کے ایک ذریعے نے اس کا انکشاف کیا ہے۔

تازہ کھدائیوں میں اسٹوپا ٹیلے کے مغرب میں زمین کی سطح پر ایک بڑی کچی اینٹوں کی فصیل دریافت ہوئی، جس کے حوالے سے پانچ نئے سائنسی تاریخیں حاصل کی گئی ہیں۔ یہ وہی ڈھانچہ ہے جسے 1950 میں برطانوی ماہر آثار قدیمہ سر مورٹیمر وہیلر نے دریافت کیا تھا، تاہم اس وقت اسے سیلاب سے بچاؤ کے بند کے طور پر غلط طور پر شناخت کیا گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق نئی کھدائیوں سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دراصل شہر کی حفاظتی فصیل تھی، جو مختلف ادوار میں تعمیر اور توسیع کی گئی۔ ابتدائی سطحوں سے ملنے والے مٹی کے برتنوں اور کاربن نمونوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فصیل ہڑپہ تہذیب کے ابتدائی دور سے بھی پہلے تعمیر کی گئی تھی۔

یہ کھدائیاں محکمہ آثار قدیمہ سندھ اور سندھ ایکسپلوریشن اینڈ ایڈونچر سوسائٹی کے مشترکہ مشن کے تحت 2025 کے موسمِ گرما اور 2025-26 کے موسمِ سرما میں کی گئیں۔ اس منصوبے کی قیادت ماہرین آثار قدیمہ ڈاکٹر اسما ابراہیم اور علی لاشاری نے کی، جبکہ غیر ملکی ماہرین اور طلبہ بھی اس تحقیق میں شامل رہے۔

رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر اسما ابراہیم نے تصدیق کی کہ حاصل شدہ نمونوں کی سائنسی جانچ امریکہ میں کی گئی کیونکہ پاکستان میں اس سہولت کی کمی ہے۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی فصیل کی تعمیر کے بعد ہڑپہ دور (تقریباً 2600 قبل مسیح) میں اس کی مزید توسیع کی گئی، اور یہ سلسلہ تقریباً 2200 قبل مسیح تک جاری رہا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دریافتوں سے نہ صرف موئن جو دڑو کی تاریخ بلکہ قدیم شہری نظام اور معاشرتی ارتقا کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی، اور آئندہ تحقیقات کے ذریعے شہر کی ساخت اور دروازوں کی نشاندہی کی کوشش کی جائے گی۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں