سوڈان: مفادات کی جنگ کے شعلے

جب ہم الفاشر کا نام سنتے ہیں تو شاید ذہن میں صرف ایک شہر کا نقشہ آتا ہے لیکن اس شہر کے ہر بے زبان ملبے کے نیچے انسانوں کی چیخیں مدفون ہیں، چیخیں جو بسترِ غفلت پر سوئی عالمی برادری تک پہنچنے میں ناکام رہی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی آزاد حقیقت جانچ مشن کی تازہ رپورٹ میں وہ الفاظ درج ہیں جو تاریخ کے صفحات پر سیاہ حروف میں لکھے جائیں گے۔ الفاشر میں جو کچھ ہوا، وہ محض جنگ کے فسادات کا نتیجہ نہیں بلکہ نسل کشی کی وہ علامات ہیں جن میں نسل، مذہب، اور شناخت کے خلاف منظم حملے کے ثبوت موجود ہیں۔ یہ رپورٹ ایک منظم، منصوبہ بند، اور بے رحمانہ آپریشن کی نشاندہی کرتی ہے جس کا مقصد صرف ایک گروہ کو تباہ کرنا تھا، وہ گروہ جو اپنی شناخت، نسل اور ثقافت کے سبب نشانے پر تھا۔

الفاشر پر حملے سے پہلے، شہر تقریباً 18 ماہ تک محاصرے میں تھا، اس محاصرے نے نہ صرف غذا، پانی، دوا اور بنیادی امداد کو روک دیا بلکہ لوگوں کو شدید پشتِ فقر، بھوک اور بیماری کی لپیٹ میں چھوڑ دیا، پھر وہ تین دن آئے، تین دن جنہیں الفاشر کے لوگ آج بھی اپنی روحوں میں یاد رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ہزاروں افراد کو گولیوں سے ہلاک کیا گیا، بچے، عورتیں، بوڑھے، سب بے رحم تشدد کا نشانہ بنے، گینگ ریپ، زنجیروں سے باندھ کر تشدد، اور اجتماعی قتل عام جیسی کارروائیاں کی گئیں، دن کے اجالے میں بھی معصوم افراد کو ایک ایک کر کے نشانہ بنایا گیا۔ یہ تعداد صرف اعداد نہیں تھیں بلکہ یہ ٹوٹے ہوئے گھر، ادھورا بچہ، تنہا ماں، نامعلوم لاش، اور وہ آہ و بکا تھا جو زندگی اور موت کے درمیان گھوم رہا تھا۔اقوامِ متحدہ کے ممبران نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ یہ واقعات نادانستہ یا خود بخود رونما نہیں ہوئے تھے۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس میں خصوصی نسلی گروہوں کو نشانہ بنایا گیا، جنسی تشدد کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، غذائی قلت، بیماری، اور امداد کی رکاوٹ سب دانستہ طریقے سے عوام کو تباہ کرنے کا ذریعہ بنائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق، اس نسل کشی کا واحد ممکنہ نتیجہ یہی ہے کہ حملہ آوروں نے شناختی گروہوں کو جزوی یا مکمل طور پر تباہ کرنے کا ارادہ کیا،یہ سوال ناقابلِ فراموش ہے، جب عالمی دنیا نے بار بار انتباہ سنا، کیوں کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھایا گیا، اقوامِ متحدہ اور امدادی تنظیموں نے 2024 سے متعدد بار خطرے کی نشاندہی کی، مگر پھر بھی کارروائی مؤثر انداز میں نہ ہو سکی۔ یہ صرف جنگ کی خلاف ورزی نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جرم، بین الاقوامی قانون کی پامالی، اور امن کمیونٹی کی ناکامی ہے، جب تک ذمہ داران کے خلاف بین الاقوامی مقدّمہ، تحقیق اور احتساب نہیں ہوگا، یہ دردناک حقیقتیں تاریخی زخموں کی مانند داستان بنتی جائیں گی۔

الفاشر صرف ایک نام نہیں، یہ وہ شہزادے، وہ ماں، وہ معصوم بچے، وہ لاپتہ عزیز ہیں جن کی یاد آج بھی فضاؤں میں گھومتی ہے، یہ حقیقتیں دل کو چیرتی ہیں، مگر ان کا بیان ضروری ہے تاکہ دنیا حقیقت کا سامنا کرے۔ ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، ظلم کے خلاف سمجھوتہ ناممکن قرار پائے، الفاشر کی کہانی صرف سوڈان کے عوام کی تاریخ نہیں، یہ پوری انسانیت کے ضمیر کی عکاسی ہے، اور ایک پکار ہے انصاف، تحفظ، اور امن کے لیے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں