بھارت کی ریاست اتر پردیش میں گوگل میپ پر بھروسہ کرنے والے تین نوجوانوں کی زندگی ایک خوفناک حادثے کی نذر ہوگئی۔ بدایوں شہر سے فرید پور قصبے کی طرف جاتے ہوئے ان کی گاڑی بریلی میں رام گنگا ندی پر زیر تعمیر پل سے نیچے جا گری، جس کے نتیجے میں دو بھائیوں سمیت تینوں افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔
حادثہ گزشتہ شب پیش آیا جب گاڑی کے مسافر جی پی ایس کے ذریعے راستہ تلاش کر رہے تھے۔ اہلخانہ کے مطابق گوگل میپ نے پل کو کھلا دکھایا، تاہم پل مکمل ہونے کے بجائے زیر تعمیر تھا، اور آگے کوئی حفاظتی رکاوٹ موجود نہ ہونے کے باعث گاڑی تقریباً 50 فٹ کی بلندی سے نیچے جا گری۔
جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین نے انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر پل پر واضح نشانات یا رکاوٹیں موجود ہوتیں تو یہ دل دہلا دینے والا واقعہ پیش نہ آتا۔ پولیس نے حادثے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا گوگل میپ کے ذریعے فراہم کردہ معلومات میں غلطی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
یہ حادثہ جدید ٹیکنالوجی پر مکمل انحصار اور بنیادی حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی کے خطرات کو واضح کرتا ہے۔