بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے انتخابات میں مچھلی اب ایک اہم سیاسی علامت بن گئی ہے، جہاں بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ووٹ مانگنے کے لیے انتخابی مہم کے دوران ہاتھ میں مچھلی لے کر گھر گھر جا رہے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق، امیدوار شرادوت مکھرجی، جو بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، انتخابی مہم میں بڑی کیٹلا مچھلی لے کر ووٹروں سے ملاقات کرتے دکھائی دیے۔ وہ جب ووٹروں کو سلام کرتے ہیں تو مچھلی ان کے ہاتھ میں لٹکتی رہتی ہے، جس سے انتخابی ماحول میں ایک غیر معمولی منظر پیدا ہو گیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، بنگال میں مچھلی کھانے کی روایت بہت مضبوط ہے اور یہ خطے کی ثقافت اور روزمرہ خوراک کا اہم حصہ ہے۔ اسی وجہ سے سیاسی جماعتیں اس جذباتی اور ثقافتی عنصر کو ووٹروں سے جڑنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
مغربی بنگال میں تقریبا 6 کروڑ 80 لاکھ ووٹر اسمبلی کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہیں، اور یہ انتخابات بھارتی سیاست میں نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں کیونکہ یہ ریاست اب تک بھارتیہ جنتا پارٹی کے کنٹرول میں نہیں آ سکی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کی رہنما اور وزیرِاعلیٰ ممتا بنرجی نے طویل عرصے سے بنگالی شناخت اور خوراک جیسے مسائل کو انتخابی سیاست میں نمایاں رکھا ہے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اب اس ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، مچھلی جیسے موضوع کا انتخابی مہم میں استعمال ایک علامتی حکمتِ عملی ہے، جس کا مقصد ووٹروں کے جذبات اور ثقافتی وابستگی کو متاثر کرنا ہے، تاہم اسے بعض حلقے محض ایک سیاسی ‘اسٹنٹ’ قرار دے رہے ہیں۔