پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر نئی جھڑپیں، امن مذاکرات متاثر ہونے کا خدشہ

پاکستان اور افغانستان نے ایک دوسرے پر نئے سرحد پار حملوں کے الزامات عائد کیے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

افغان حکام کے مطابق مشرقی صوبہ کنڑ میں حملوں کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں فائرنگ سے کم از کم تین شہری زخمی ہوئے ہیں۔

افغانستان میں طالبان کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے الزام لگایا کہ پاکستانی فوج نے مارٹر اور راکٹ حملے کیے، جن میں 45 افراد زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق زخمیوں میں خواتین، بچے اور طلبہ شامل ہیں، جبکہ سید جمال الدین افغانی یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں “بے بنیاد” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یونیورسٹی پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔

یہ حالیہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان مارچ میں ایک نازک جنگ بندی طے پائی تھی، جس کے بعد کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی جھڑپیں رک گئی تھیں۔ یہ مذاکرات چین کی ثالثی میں ہوئے تھے، جبکہ ترکی، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے تعلقات 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے کشیدہ ہیں۔ سکیورٹی معاملات اس کشیدگی کی بڑی وجہ تحریک طالبان پاکستان ہے، جس پر پاکستان کا اصولی موقف ہے کہ وہ افغانستان سے کارروائیاں کرتی ہے، جبکہ کابل اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان سرحد، جسے ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے، حالیہ مہینوں میں اکثر بند رہی ہے، جس سے باہمی تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔

تازہ جھڑپوں کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں