تیسرے ممالک سے آنے والا سامان پاکستان کے راستے ایران منتقل کرنے کے لیے چھ نئے تجارتی راستے فعال

پاکستان نے ایران کے ساتھ تجارت کو سہولت دینے کے لیے ایک نیا فریم ورک متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت پاکستان کے علاقے سے ایران جانے والے سامان کی ترسیل کے لیے مخصوص راہداریوں کی اجازت دی گئی ہے۔

وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ نظام “پاکستان کے علاقے سے گزر کر سامان کی ترسیل کا حکم نامہ 2026” کے تحت نافذ کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد منظم طریقے سے بین الاقوامی اور علاقائی تجارت کو فروغ دینا ہے۔

نئے فریم ورک کے تحت چھ مخصوص ٹرانزٹ راستے منظور کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے تیسرے ممالک سے آنے والا سامان پاکستان کے راستے ایران منتقل کیا جا سکے گا۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ نظام پاکستان اور ایران کے درمیان 2008 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت بنایا گیا ہے، جس کا تعلق سڑک کے ذریعے مسافروں اور سامان کی بین الاقوامی نقل و حمل سے ہے۔

حکومتی دستاویز کے مطابق “ٹرانزٹ” سے مراد وہ سامان ہے جو پاکستان کے علاقے سے صرف گزرتا ہے اور جس کا آغاز اور اختتام پاکستان سے باہر ہوتا ہے۔ اسی طرح “کسٹمز سکیورٹی” اور دیگر اصطلاحات کے ذریعے ترسیل کے عمل کو ریگولیٹ کیا جائے گا تاکہ قانونی اور مالی ضوابط پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

سامان کی ترسیل کے لیے منظور شدہ راستوں میں گوادر سے گبد، کراچی اور پورٹ قاسم سے مختلف داخلی راستوں کے ذریعے گوادر، تربت، خضدار، دالبندین اور تفتان تک کے روٹس شامل ہیں۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق اس ٹرانزٹ ٹریڈ کو کسٹمز ایکٹ 1969 اور متعلقہ قوانین کے تحت منظم کیا جائے گا تاکہ نگرانی اور سکیورٹی کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کو فروغ ملے گا بلکہ خطے میں علاقائی رابطوں اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں