خلیجی ممالک کی حیثیت کو دھچکا، عالمی سرمایہ کاروں کا رخ ایشیا کی جانب خلیجی خطہ طویل عرصے سے عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال نے اس تاثر کو کمزور کرنا شروع کر دیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث دنیا کے امیر ترین سرمایہ کار اب اپنے اثاثے خلیجی ممالک سے نکال کر ایشیائی منڈیوں میں منتقل کر رہے ہیں۔ الجزیرہ کے نمائندے پٹریک فوک کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اب زیادہ مستحکم اور طویل مدتی معاشی مواقع کی تلاش میں ہیں، جہاں سیاسی تناؤ کم ہو اور ترقی کے امکانات زیادہ ہوں۔ ایشیا، خصوصاً جنوب مشرقی ایشیا، اس وقت سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش خطہ بنتا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف خلیجی معیشتوں بلکہ عالمی مالیاتی نظام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔