بھارتی پارلیمان میں خواتین کے لیے نشستوں کے کوٹے کا مجوزہ بِل پاس کیوں نہ ہو سکا؟

بھارتی حکومت کی جانب سے پارلیمان میں خواتین کے لیے نشستوں کا کوٹہ مقرر کرنے اور انتخابی حلقہ بندیوں میں تبدیلی سے متعلق پیش کیے گئے اہم بل ایوان زیریں میں منظور نہ ہو سکے۔ یہ پیش رفت دو روزہ بحث کے بعد سامنے آئی، جس میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے بھرپور حصہ لیا۔

بل کے تحت پارلیمان اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد نشستیں مختص کرنے کی تجویز دی گئی تھی، جس کا مقصد سیاسی نظام میں خواتین کی نمائندگی بڑھانا تھا، جہاں وہ اب بھی کم تعداد میں موجود ہیں۔ تاہم اس تجویز کو ایک متنازع منصوبے کے ساتھ جوڑا گیا تھا، جس کے تحت ملک بھر میں انتخابی حلقہ بندیوں کو دوبارہ ترتیب دینا اور پارلیمان کے حجم میں اضافہ شامل تھا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، اپوزیشن جماعتوں نے خواتین کی نمائندگی بڑھانے کی حمایت تو کی، لیکن حلقہ بندیوں میں تبدیلی اور نشستوں کی تعداد بڑھانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے سیاسی توازن متاثر ہو سکتا ہے اور اس کا فائدہ مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو پہنچ سکتا ہے۔

یہ دونوں بل تین روزہ خصوصی پارلیمانی اجلاس کے دوران پیش کیے گئے تھے اور انہیں منظور ہونے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار تھی، جو حاصل نہ ہو سکی۔ بعد ازاں حکومت نے حلقہ بندیوں سے متعلق تجویز واپس لے لی۔

مجوزہ منصوبے کے تحت 2029 کے عام انتخابات تک لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد 543 سے بڑھا کر تقریبا 850 کرنے کی تجویز تھی۔ اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر نئی حلقہ بندیاں کرنے سے تیزی سے بڑھتی آبادی والے شمالی علاقوں کو زیادہ فائدہ ہوگا جبکہ جنوبی ریاستوں کی نمائندگی کم ہو سکتی ہے۔

حکومت نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام ریاستوں میں نشستوں میں یکساں 50 فیصد اضافہ کیا جائے گا تاکہ تناسب برقرار رہے، تاہم ناقدین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے قانون میں واضح ضمانت موجود نہیں ہے۔

ووٹنگ سے چند گھنٹے قبل نریندر مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے تمام خدشات کو ‘حقائق اور منطق’ سے دور کر دیا ہے، لیکن اپوزیشن قیادت اس وضاحت سے مطمئن نہ ہو سکی۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی نے اس اقدام کو ‘بھارت کے انتخابی نقشے کو تبدیل کرنے کی کوشش’ قرار دیا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں