واشنگٹن میں ایک اعلیٰ سطح تقریب کے دوران سکیورٹی میں نقب لگا کر فائرنگ کرنے والے ایک امریکی شہری پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کر دیا گیا ہے۔
استغاثہ کے مطابق 31 سالہ کول ٹوماس ایلن، جو کیلیفورنیا کے شہر ٹورنس کا رہائشی ہے، مبینہ طور پر سیاسی قتل کے ارادے سے دارالحکومت پہنچا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایک پمپ ایکشن شاٹ گن، .38 کیلیبر پستول اور تین چاقو موجود تھے۔
ملزم کو پیر کے روز وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس نے ابتدائی سماعت کے دوران کوئی بیان نہیں دیا۔ عدالت نے اس کی حراست سے متعلق سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی ہے۔
یہ واقعہ ہفتے کی رات اس وقت پیش آیا جب واشنگٹن کے ایک ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کی سالانہ عشائیہ تقریب جاری تھی، جس میں دو ہزار سے زائد مہمان شریک تھے، جن میں صدر ٹرمپ، نائب صدر اور کابینہ ارکان بھی شامل تھے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم شام تقریباً 8:40 بجے ہوٹل کے اندر قائم سکیورٹی چیک پوائنٹ پر پہنچا اور اچانک دوڑتے ہوئے میٹل ڈیٹیکٹر سے گزر گیا۔ اس دوران ایک فائر کی آواز سنی گئی اور ایک سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گیا، تاہم اس نے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی جس سے اس کی جان بچ گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اہلکار نے جوابی فائرنگ کی جس کے بعد ملزم کو زمین پر گرا کر گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم کو معمولی چوٹیں آئیں۔
تفتیشی اداروں کے مطابق ملزم نے حملے سے قبل اپنے اہل خانہ اور ایک سابق آجر کو ای میل بھیجی تھی جس میں اس نے حکومت اور صدر کے خلاف شدید غصے کا اظہار کیا تھا۔ حکام اس کے محرکات اور ممکنہ روابط کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔
فائرنگ کے بعد تقریب میں افراتفری پھیل گئی اور مہمانوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا، جبکہ صدر اور دیگر اعلیٰ شخصیات کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے واقعے کے بعد سکیورٹی اہلکار کی بہادری کو سراہا اور کہا کہ صدر کو سکیورٹی اداروں پر مکمل اعتماد ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے سکیورٹی اقدامات کا جائزہ لینے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب حالیہ برسوں میں امریکی صدر کے خلاف حملوں کے خدشات اور سیاسی تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔