مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران سے متعلق سفارتی سرگرمیوں نے عالمی سیاست کا رخ بدل دیا ہے، اور اس صورتِ حال میں بھارت خود کو ایک حد تک پس منظر میں جاتا ہوا محسوس کر رہا ہے۔ جہاں ایک جانب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، وہیں بھارتی قیادت کو اس پیش رفت پر تشویش لاحق ہے۔
دی اٹلانٹک کی ایک رپورٹ کے مطابق، بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران خود کو عالمی جنوب کے ایک نمایاں رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، تاہم حالیہ بحران نے اس دعوے کو چیلنج کر دیا ہے۔ ایران جنگ کے باعث عالمی معیشت متاثر ہوئی ہے، جس کا اثر بھارت پر بھی پڑا ہے، جبکہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نے نئی دہلی کو سفارتی طور پر پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ابتدائی طور پر بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر نے پاکستان کے کردار کو کم اہمیت دینے کی کوشش کی، مگر اپوزیشن حلقوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس پارٹی کے رہنما جے رام رمیش نے اس صورتحال کو مودی کی ذاتی نوعیت کی سفارت کاری کے لیے ‘بڑا دھچکا’ قرار دیا، جبکہ دیگر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر حکومتی پالیسیوں میں توازن ہوتا تو یہ مذاکرات بھارت میں ہو سکتے تھے۔
ادھر امریکہ کے ساتھ بھارت کے تعلقات بھی حالیہ عرصے میں کشیدہ رہے ہیں۔ پہلگام میں ایک حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان مختصر جنگ ہوئی جس کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، جسے نئی دہلی میں اچھا نہیں سمجھا گیا۔ پاکستان نے اس موقع پر جنگ بندی میں امریکی کردار کو سراہا تو دوسری طرف بھارت نے اس سے انکار کیا اور اسے دوطرفہ معاملہ قرار دیا۔ بعد ازاں امریکہ نے بھارتی مصنوعات پر بھاری محصولات بھی عائد کیے، جس سے تعلقات مزید متاثر ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی اور سفارتی سطح پر سرگرم کردار ادا کیا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان پہلے مرحلے کے مذاکرات اگرچہ کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، تاہم پاکستان کی ثالثی کا سلسلہ جاری ہے اور مزید بات چیت متوقع ہے۔
معاشی سطح پر اس بحران کے اثرات بھارت میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک مشرقِ وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے، اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل میں رکاوٹ نے شدید دباؤ پیدا کیا ہے۔ ایندھن کی قلت کے باعث فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، شہری علاقوں میں روزگار متاثر ہو رہا ہے، جبکہ دیہی علاقوں کی طرف ہجرت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
عوامی سطح پر بھی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ گیس سلنڈر حاصل کرنے کے لیے طویل قطاریں لگ رہی ہیں اور قیمتوں میں اضافے نے عام آدمی کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس بحران کے باعث بھارت میں لاکھوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، سفارتی محاذ پر بھارت کی پالیسی میں بھی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ ماضی میں بھارت ایران اور اسرائیل دونوں کے ساتھ توازن برقرار رکھتا تھا، مگر حالیہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ قربت بڑھنے کے باعث اس کی غیر جانبدار حیثیت متاثر ہوئی ہے، جس سے وہ موجودہ تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کرنے سے قاصر رہا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال نے یہ واضح کر دیا ہے کہ بھارت عالمی سیاست میں ابھی تک ایک درمیانی طاقت کی حیثیت رکھتا ہے، جو اکثر خود فیصلے کرنے کے بجائے عالمی حالات سے متاثر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ملک کے عالمی طاقت بننے کے دعوے کے مقابلے میں زمینی حقائق مختلف نظر آتے ہیں۔