فرانس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سعودی عرب کی اہم توانائی تنصیبات کے تحفظ میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔ فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ یہ تعاون صرف دفاعی نوعیت کا ہوگا اور اس کا مقصد سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔
ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق فرانسیسی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے جمعرات، 8 اکتوبر کو اپنے بیان میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فرانس موجودہ حملوں کے تناظر میں مملکت کی سلامتی سے متعلق خدشات کو سنجیدگی سے دیکھتا ہے۔
ترجمان کے مطابق فرانس خاص طور پر سعودی عرب کے ساحلی شہر ینبع میں واقع توانائی کی تنصیبات اور مشرقی مغربی تیل پائپ لائن کے تحفظ میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ممکنہ تعاون کا دائرہ صرف دفاعی اقدامات تک محدود ہوگا۔
سعودی عرب کی مشرقی مغربی تیل پائپ لائن ملک کے مشرقی حصے میں واقع تیل پیدا کرنے والے علاقوں کو بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر ینبع سے ملاتی ہے۔ یہ پائپ لائن سعودی خام تیل کی برآمدات کے لیے ایک اہم راستہ ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہو۔
حالیہ ہفتوں میں یمن کے حو-ثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ حو-ثیوں کی جانب سے سعودی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعووں کے بعد خطے میں شہری اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔
فرانس کی جانب سے اس سے پہلے بھی سعودی توانائی تنصیبات کی حفاظت میں دفاعی تعاون پر آمادگی ظاہر کی گئی تھی۔ فرانسیسی مؤقف کے مطابق اس قسم کی معاونت کا مقصد تنصیبات کی حفاظت ہے، نہ کہ یمن میں جاری لڑائی میں جارحانہ فوجی کارروائیوں کا حصہ بننا۔