’’بھارت میں سکون محسوس نہیں ہوتا‘‘، سنجے دت کے بیان پر تنازع، شیکھر سمن دفاع میں سامنے آگئے

بالی ووڈ اداکار سنجے دت کے بھارت میں امن سے متعلق بیان پر تنقید کے بعد اداکار اور میزبان شیکھر سمن ان کے دفاع میں سامنے آگئے ہیں اور کہا ہے کہ سنجے دت کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق سنجے دت نے حال ہی میں شیکھر سمن کے یوٹیوب پروگرام ’شیکھر ٹونائٹ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کے لوگ بہت اچھے اور کشادہ دل ہیں اور ملک میں امن ہونا چاہیے، تاہم اب انہیں ملک میں پہلے جیسا سکون محسوس نہیں ہوتا۔

سنجے دت کے اس بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد متعدد صارفین نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا، جس کے بعد اداکار نے اپنے بیان کی وضاحت بھی جاری کی۔

تنازع پر ردعمل دیتے ہوئے شیکھر سمن نے این ڈی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ سنجے دت اپنے ملک اور ہم وطنوں کا بہت احترام کرتے ہیں اور ان کی بات کا مقصد منفی نہیں تھا۔

شیکھر سمن کا کہنا تھا کہ وہ سنجے دت کو کئی برسوں سے جانتے ہیں، وہ ایک اچھے انسان ہیں جو اپنے ملک سے محبت اور اس کا احترام کرتے ہیں، اس لیے انہیں ایسی بات پر تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے جو انہوں نے کہی یا مراد ہی نہیں لی۔

گاندھی جینتی کے موقع پر نشر ہونے والے پروگرام میں سنجے دت نے مہاتما گاندھی، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں مختلف سوالات کے جواب دیے تھے۔

پروگرام کے دوران سنجے دت نے کہا تھا کہ بھارت کے لوگ بہت اچھے ہیں اور ملک میں امن ہونا چاہیے۔ ان کے بقول بھارتی کشادہ دل اور مہمان نواز ہیں اور انہیں امید ہے کہ ملک میں پہلے جیسے حالات واپس آئیں گے۔

پروگرام کے اختتام پر سنجے دت سے یہ تصور کرنے کو کہا گیا کہ اگر وہ پانچ منٹ کے لیے بھارت کے وزیراعظم بن جائیں تو عوام سے کیا کہیں گے۔ اس پر اداکار نے اپنی معروف فلم ’منا بھائی‘ کے کردار کے انداز میں مزاحیہ گفتگو کی اور کہا کہ وہ وزیراعظم بننے کی خوشی منانے کے لیے بیرون ملک نہیں جائیں گے بلکہ عوام کے درمیان رہیں گے۔

ان ریمارکس پر سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد سنجے دت نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد کسی فرد، برادری یا ادارے کے جذبات کو مجروح کرنا یا کسی کی توہین کرنا نہیں تھا۔

سنجے دت کے مطابق ان کی گفتگو ایک پہلے سے طے شدہ اور مزاحیہ مکالمے کے تناظر میں تھی، جس کا مقصد ہلکے پھلکے انداز میں بات کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس گفتگو کا انداز ’منا بھائی‘ فلموں میں دکھائی گئی ’گاندھی گیری‘ سے متاثر تھا، جس کا مقصد محبت، اتحاد اور خیرسگالی کا پیغام دینا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں