جنوبی امریکی ملک چلی کے ایک بلند پہاڑ پر قائم ویرا سی روبن آبزرویٹری نے دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل کیمرے کے ذریعے کائنات کے دس سالہ سروے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت آبزرویٹری آئندہ دس برس تک ہر رات جنوبی آسمان کی سیکڑوں تصاویر لے گی۔ سائنس دانوں کو امید ہے کہ اس سروے سے ہماری کہکشاں ملکی وے کے اربوں ستاروں اور اس سے باہر موجود اربوں کہکشاؤں کا پہلے سے کہیں زیادہ تفصیلی نقشہ تیار کیا جا سکے گا۔
یہ جدید کیمرہ آسمان کے ایک ہی حصے کی بار بار تصاویر لینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کی بدولت ایسے مدھم اور دور دراز خلائی اجسام بھی سامنے آ سکیں گے جو اب تک سائنس دانوں کی نظروں سے اوجھل تھے۔
آبزرویٹری نے گزشتہ سال اپنی پہلی تصاویر جاری کی تھیں، جن میں زمین سے ہزاروں نوری سال کے فاصلے پر واقع ٹریفڈ اور لیگون نیبیولا کی رنگا رنگ جھلکیاں شامل تھیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں نئے ستارے تشکیل پاتے ہیں۔ ایک نوری سال تقریباً 9.7 کھرب کلومیٹر کے برابر ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران دوربین اور کیمرے کے آلات کو مزید بہتر بنایا گیا ہے تاکہ آئندہ دس برس تک انتہائی واضح اور درست تصاویر حاصل کی جا سکیں۔ ان مشاہدات سے سائنس دانوں کو کہکشاؤں کی تشکیل، ان کے ارتقا اور کائنات کی ابتدا کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
امریکی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن اور امریکی محکمۂ توانائی کے تعاون سے قائم اس آبزرویٹری کا نام معروف ماہرِ فلکیات ویرا روبن کے نام پر رکھا گیا ہے، جنہوں نے پہلی مرتبہ ایسے شواہد پیش کیے تھے جن سے کائنات میں موجود پراسرار مادے ڈارک میٹر کے وجود کا امکان سامنے آیا تھا۔
محققین کو امید ہے کہ یہ منصوبہ ڈارک میٹر کے ساتھ ساتھ ایک اور پراسرار قوت ڈارک انرجی کے بارے میں بھی نئے شواہد فراہم کرے گا، جس سے کائنات کے کئی سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے میں مدد مل سکتی ہے۔