جگر انسانی جسم کا ایک انتہائی اہم عضو ہے، جو خون سے زہریلے مادوں کو صاف کرنے، ادویات کو جسم میں قابلِ استعمال بنانے، خون جمنے کے لیے ضروری اجزا تیار کرنے اور جسم کے کئی بنیادی افعال کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب جگر ناکام ہو جائے تو اکثر مریضوں کے لیے آخری امید جگر کی پیوند کاری ہی رہ جاتی ہے، مگر عطیہ کیے گئے اعضا کی کمی کے باعث ہزاروں مریض بروقت علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔
اسی مسئلے کے حل کے لیے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے انجیکشن کے ذریعے جسم میں داخل کیے جانے والے ننھے مصنوعی جگر تیار کیے ہیں، جو مستقبل میں جگر کی پیوند کاری کا متبادل یا اس تک پہنچنے سے پہلے عارضی سہارا بن سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق یہ ننھے مصنوعی جگر چوہوں کے جسم میں کم از کم دو ماہ تک زندہ رہے اور صحت مند جگر کے کئی اہم کام انجام دیتے رہے۔ ماہرین انہیں معاون جگر قرار دے رہے ہیں، کیونکہ ان کا مقصد بیمار جگر کو نکالنا نہیں بلکہ جسم میں موجود جگر کو اضافی مدد فراہم کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ایسے خلیات جسم میں داخل کیے جا سکیں جو جگر کے بنیادی کام انجام دیں تو وہ مریض کے اصل جگر کے ساتھ مددگار نظام کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔ اس سے ایسے مریضوں کو فائدہ ہو سکتا ہے جو جگر کی پیوند کاری کے انتظار میں ہوں یا فوری بڑی سرجری کے قابل نہ ہوں۔
اس تحقیق میں سائنسدانوں نے جگر کے اہم خلیات کو نہایت باریک ذرات کے ساتھ ملا کر جسم میں داخل کیا۔ یہ باریک ذرات خلیات کو ایک جگہ جمع رکھنے، انہیں زندہ رہنے کے لیے مناسب ماحول فراہم کرنے اور قریبی خون کی نالیوں سے جڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ خون کی نالیوں سے رابطہ قائم ہونے کے بعد یہ خلیات غذائیت حاصل کرتے ہیں اور زیادہ دیر تک فعال رہ سکتے ہیں۔
تحقیق کے دوران ان خلیات کو چوہوں کے پیٹ کے چربی والے حصے میں انجیکشن کے ذریعے داخل کیا گیا۔ بعد میں الٹرا ساؤنڈ کی مدد سے ان کی حالت اور مضبوطی کا جائزہ لیا گیا، تاکہ بار بار پیچیدہ طبی عمل کی ضرورت نہ پڑے۔
ماہرین کے مطابق انجیکشن کے بعد یہ خلیات جسم میں ایک مستحکم ساخت کی شکل اختیار کر گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ نئی خون کی نالیاں ان کے قریب بنیں، جس سے خلیات کو غذا اور آکسیجن ملتی رہی۔ اس کے نتیجے میں یہ خلیات وہ پروٹین بنانے لگے جو عام طور پر جگر تیار کرتا ہے۔
تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ مستقبل میں جگر کی خرابی کے مریضوں کے لیے ایک اہم امید بن سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے مریضوں کے لیے یہ طریقہ مددگار ہو سکتا ہے جو جگر کی پیوند کاری کے انتظار میں ہوتے ہیں اور انہیں اس دوران جسمانی نظام کو سہارا دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور فی الحال اس کے تجربات جانوروں پر کیے گئے ہیں۔ انسانوں میں اس طریقے کے استعمال سے پہلے مزید تحقیق، حفاظتی جائزوں اور طبی آزمائشوں کی ضرورت ہوگی۔
موجودہ طریقے میں مریضوں کو ممکنہ طور پر ایسی ادویات بھی دینا پڑ سکتی ہیں جو جسم کے دفاعی نظام کو قابو میں رکھیں، تاکہ جسم ان نئے خلیات کو رد نہ کرے۔ ماہرین اب ایسے خلیات اور جیل نما ذرات پر کام کر رہے ہیں جو جسم کے دفاعی نظام سے بہتر طور پر محفوظ رہ سکیں۔
اگر آنے والے برسوں میں یہ طریقہ انسانوں میں محفوظ اور مؤثر ثابت ہو جاتا ہے تو یہ جگر کے ناکارہ ہونے کے مرض میں مبتلا ہزاروں مریضوں کے لیے علاج کا ایک نیا راستہ کھول سکتا ہے۔