‘چین پاکستان کے بنیادی مفادات کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے، بالخصوص پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے معاملے میں، ان میں دریائے سندھ کے پانی پر پاکستانی عوام کا حق بھی شامل ہے’
یہ الفاظ چینی وکیل اور خارجہ امور کے ماہر ڈاکٹر وکٹر گاو کے ہیں، جو اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ ایک بین الاقوامی سیمینار میں شریک تھے۔
ڈاکٹر وکٹر گاؤ کے بارے میں ایک بات مشہور ہے کہ ‘چین ان کے ذریعے دنیا تک اپنا “پیغام” پہنچاتا ہے’، اور اب سندھ طاس معاہدے سے متعلق چین کا موقف شاید انہی کے ذریعے مودی حکومت تک پہنچایا گیا ہے۔

مئی 2025 کی جنگ کے بعد انڈیا نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر دیا تھا، یہ معطلی اب بھی برقرار ہے۔ انڈین سیکرٹری خارجہ وکرم مصری نے اس وقت کہا تھا کہ ‘جب تک پاکستان سرحد پار مبینہ دہ-ش-تگردی کی حمایت سے دستبردار نہیں ہو جاتا، اس وقت تک انڈیا اس معاہدے کے تحت کوئی ذمہ داری نبھانے کا پابند نہیں رہے گا’۔

بعد ازاں جون 2026 میں نڈیا کے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سی آر پائل نے ایک بیان میں کہا کہ ‘انڈیا اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ پانی کا ایک قطرہ بھی پاکستان کی طرف نہ جائے’۔ انہوں نے کہا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی ہدایت پر وزیر داخلہ امت شاه پانی روکنے کے اس عمل کی خود نگرانی کر رہے ہیں’۔

اسلام آباد میں منگل کے روز سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر وکٹر گاو نے کہا کہ ‘پرامن حالات میں زیریں علاقوں کے پانی کو روکنا انسانیت کے خلاف جرم تصور ہوگا، جبکہ جنگ کے دوران زیریں علاقوں میں بسنے والے کروڑوں افراد کے پانی کو روکنا جنگی جرم تصور ہوگا’۔
انہوں نے کہا کہ ‘دریا کے درمیانی حصے میں واقع ملک (انڈیا) کو ایسے سنگین جرائم سے بچنے کے لیے بہت محتاط رہنا چاہیے’۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستان اور انڈیا کے درمیان سندھ طاس معاہدے سے چین کا کیا تعلق ہے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے کہ سندھ طاس معاہدہ ہے کیا؟
سندھ طاس معاہدہ سنہ 1960 میں ورلڈ بینک کی ثالثی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان طے پایا تھا۔ پاکستان کے شہر کراچی میں اس معاہدے پر دستخط ہوئے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان اور انڈیا کے درمیان 6 دریا منصفانہ طور پر تقسیم کیے گئے۔ تین مغربی دریا، یعنی سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے کنٹرول میں آئے۔ ان تین دریاوں کے 80 فیصد پانی پر پاکستان کا حق ہے جبکہ انڈیا کو ان دریاوں پر محدود حق حاصل ہے، یعنی انڈیا ان دریاوں کے بہتے ہوئے پانی سے بجلی تو پیدا سکتا ہے مگر اسے ذخیرہ یا اس کے بہاو کو کم نہیں کر سکتا۔
اسی معاہدے کے تحت تین مشرقی دریا یعنی راوی، بیاس اور ستلج کا کنٹرول انڈیا کے پاس چلا گیا۔ انڈیا ان دریاؤں پر کوئی بھی پراجیکٹ بنانے کا مکمل حق رکھتا ہے۔ پاکستان اس پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا۔
بین الاقوامی قوانین کے ماہرین اور نیدرلینڈز میں قائم ثالثی عدالت کا کہنا ہے کہ کوئی بھی فریق، یعنی انڈیا یا پاکستان، اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔

چین کا کیا تعلق ہے؟
ڈاکٹر وکٹر گاو نے سیمینار سے خطاب میں کہا کہ انڈیا قانونی طور پر یہ جواز کیسے پیش کر سکتا ہے کہ اس نے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کر دیا ہے، کیونکہ معاہدے میں اس حوالے سے کوئی واضح شق موجود نہیں ہے’۔
سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے میں آنے والے تین دریا انڈیا سے پاکستان کی جانب بہتے ہیں، لیکن کیا ان دریاؤں کے سرچشمے انڈیا سے نکلتے ہیں؟ یہی وہ سوال سے جس سے اس معاملے میں چین کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔
دریائے سندھ ان تین دریاوں میں شامل ہے، جو معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے میں آئے ہیں، لیکن اس کے بالائی علاقے پر انڈیا نہیں بلکہ چین موجود ہے۔ دریائے سندھ کا ہیڈ واٹر یعنی ابتدائی سرچشمہ چین کے علاقے تبت سے نکلتا ہے۔ تبت سے ہوتا ہوا یہ انڈیا کے علاقے لداخ میں داخل ہو جاتا ہے۔ لداخ سے یہ دریا پاکستان کے علاقے گلگت بلتستان میں اور آخر کار بحیرہ عرب میں جا گرتا ہے۔ اسی نکتے کی طرف ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے اسلام آباد کے سیمینار میں اشارہ کرتے ہوئے چین کے موقف کا عندیہ دیا ہے۔ ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے کہا کہ دریائے سندھ کے معاملے میں ‘مکمل طور پر بالائی ملک’ انڈیا نہیں بلکہ چین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ اور اس کی کئی معاون ندیاں دراصل ہمالیہ سے نکلتی ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ سیمینار میں ڈاکٹر وکٹر گاو نے ایک مخصوص انداز میں شاید یہ پیغام دیا کہ اگر انڈیا مستقبل میں دریائے سندھ کا پانی روک کر پاکستان کو اس کے حق سے محروم کرے گا، تو پھر چین بھی پاکستان کی حمایت میں انڈیا کا پانی روک کر یہ انتہائی قدم اٹھا سکتا ہے۔
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ‘چین اور پاکستان، ایک دوسرے کا مکمل احترام کرتے ہوئے، مل کر بہت کچھ کر سکتے ہیں تاکہ سندھ طاس معاہدے کی شقوں پر عمل یقینی بنایا جا سکے’۔
ڈاکٹر وکٹر گاؤ کے اس بیان نے انڈیا کے اندرونی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ان کے اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے سابق انڈین سیکرٹری خارجہ کنول سبل نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے سے چین کا کیا لینا دینا ہے؟ انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا پاکستان اور چین کے درمیان پانی کا کوئی ایسا معاہدہ موجود ہے، جس میں یہ بات شامل ہو کہ اگر سندھ طاس معاہدے پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان اختلافات پیدا ہوتے ہیں، تو اس صورت میں چین انڈیا کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا؟

اگرچہ چین سندھ طاس معاہدے میں فریق نہیں ہے، لیکن پاکستان کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات اور دریائے سندھ پر بالائی حق کی حیثیت سے چین خود کو اس معاملے میں ‘ریلیونٹ’ سمجھتا ہے۔ جموں و کشمیر تنا-زع کے بعد یہ دوسرا اہم مسئلہ ہے جس میں چین نے انڈیا کے خلاف پاکستان کی حمایت کا اشارہ دیا ہے۔