ؔ
بڑھاپے کو عام طور پر جسم کے خلیات کی کمزوری، سوزش اور بیماریوں سے جوڑا جاتا ہے، مگر نئی سائنسی تحقیق اس تصور کو مزید گہرا اور پیچیدہ بنا رہی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق جسم میں موجود وہ خلیات جنہیں عام زبان میں “زومبی خلیات” کہا جاتا ہے، ہر صورت نقصان دہ نہیں ہوتے۔ بعض حالات میں یہی خلیات جسم کی مرمت، زخم بھرنے اور صحت مند توازن برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
زومبی خلیات دراصل ایسے خلیات ہوتے ہیں جو تقسیم ہونا بند کر دیتے ہیں، مگر جسم سے فوراً ختم نہیں ہوتے۔ طویل عرصے تک انہیں بڑھاپے اور مختلف دائمی بیماریوں کی بڑی وجہ سمجھا جاتا رہا، کیونکہ وقت کے ساتھ ان کی تعداد بڑھتی ہے اور یہ ایسے کیمیائی اشارے خارج کر سکتے ہیں جو آس پاس کے بافتوں میں سوزش اور خرابی پیدا کرتے ہیں۔
تاہم تازہ سائنسی جائزے کے مطابق یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ ماہرین اب اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ ان خلیات کی تمام اقسام کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ کچھ زومبی خلیات واقعی بیماری، سوزش، بافتوں کی کمزوری اور کینسر جیسے خطرات میں کردار ادا کر سکتے ہیں، مگر کچھ خلیات جسم کے لیے فائدہ مند بھی ثابت ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق زومبی خلیات جنینی نشوونما، زخم بھرنے اور جسم کے مختلف بافتوں کے معمول کے توازن میں مدد دے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان اب اس خیال سے پیچھے ہٹ رہے ہیں کہ بڑھاپا روکنے کے لیے ایسے تمام خلیات کو ختم کر دینا چاہیے۔
اس جائزہ تحقیق میں جگر، پھیپھڑوں، گردوں، دل، چربی والے بافتوں، دماغ اور جلد سمیت کئی اہم اعضا میں ان خلیات کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔ ماہرین کے مطابق ہر عضو میں ان خلیات کا اثر ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کسی جگہ یہ بافتوں کی مرمت میں مددگار ہو سکتے ہیں، جبکہ کسی اور جگہ یہی خلیات مسلسل سوزش اور بیماری کے عمل کو تیز کر سکتے ہیں۔
عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں کئی تبدیلیاں آتی ہیں، جن میں خلیات کو پہنچنے والا نقصان، جسمانی سوزش، ڈی این اے کو نقصان، توانائی بنانے والے خلیاتی نظام کی کمزوری، غذائی و میٹابولک دباؤ، آلودگی اور سورج کی شعاعوں جیسے ماحولیاتی اثرات شامل ہیں۔ ان عوامل کے نتیجے میں کچھ خلیات تقسیم ہونا چھوڑ دیتے ہیں اور زومبی خلیات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ زومبی خلیات موجود کیوں ہیں، بلکہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کون سے خلیات جسم کے لیے نقصان دہ ہیں اور کون سے خلیات اب بھی فائدہ مند کام کر رہے ہیں۔ اسی سوچ نے بڑھاپے سے متعلق علاج کے شعبے میں ایک نئی سمت پیدا کی ہے، جسے ہدفی اور محتاط علاج کہا جا سکتا ہے۔
ابتدائی طور پر ایسی ادویات پر کام کیا گیا جو زومبی خلیات کو ختم کر سکیں۔ ان ادویات کا مقصد ان خلیات کو نشانہ بنانا تھا جو جسم میں سوزش اور بیماری کا سبب بنتے ہیں۔ مگر اب سائنسدان زیادہ محتاط حکمتِ عملی کی طرف بڑھ رہے ہیں، تاکہ صرف نقصان دہ خلیات کو ختم کیا جائے اور فائدہ مند خلیات کو محفوظ رکھا جا سکے۔
نئی تحقیق میں ایسے علاج کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو زومبی خلیات کو مکمل ختم کرنے کے بجائے ان کے نقصان دہ پیغامات کو کم کر سکتے ہیں۔ اس طریقے کا مقصد جسم کے قدرتی مرمتی نظام کو متاثر کیے بغیر سوزش اور بیماری کے خطرے کو کم کرنا ہے۔
ماہرین مستقبل میں ایسے جدید طریقوں پر بھی کام کر رہے ہیں جن کے ذریعے ایک ایک خلیے کی سطح پر یہ سمجھا جا سکے کہ کون سا خلیہ نقصان پہنچا رہا ہے اور کون سا خلیہ جسم کے لیے مفید ہے۔ اس مقصد کے لیے جدید حیاتیاتی تجزیے، خلیات کی نسل در نسل نگرانی اور بافتوں کے اندر ان کی جگہ کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔
تحقیق کے مصنفین کے مطابق بڑھاپے کے خلاف علاج میں سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ زومبی خلیات کی مختلف اقسام کو درست طریقے سے پہچانا جائے۔ اگر تمام خلیات کو اندھا دھند ختم کیا گیا تو اس سے جسم کی مرمت، مدافعتی نگرانی، خون کی نالیوں کے استحکام اور دل، پھیپھڑوں اور دماغ جیسے حساس اعضا کے نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اس تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بڑھاپے کو روکنے یا صحت مند بڑھاپے کو فروغ دینے کے لیے مستقبل کا علاج زیادہ ذاتی، زیادہ ہدفی اور زیادہ محتاط ہو گا۔ سائنسدانوں کی کوشش ہے کہ ایسے علاج تیار کیے جائیں جو بیماری پیدا کرنے والے خلیات کو کم کریں، مگر ان خلیات کو محفوظ رکھیں جو جسم کی مرمت اور صحت برقرار رکھنے میں مدد دے رہے ہیں۔