روس نے جمعرات کی صبح تک جاری رہنے والے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں میں یوکرین کے دارالحکومت کیف کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔
یوکرینی ہنگامی امدادی اداروں کے مطابق حملوں کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی، جسے بجھانے کے لیے فائر فائٹرز نے فوری کارروائی کی۔ کئی رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ متعدد افراد ملبے تلے دب گئے، جنہیں نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کے دوران مارکیٹ، ایک ہوٹل اور ایمبولینس اسٹیشن کو بھی نقصان پہنچا۔ دھماکوں کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث امدادی کارکنوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
روس کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ کیف پر یہ حملے حالیہ ہفتوں میں روسی علاقوں پر یوکرین کے بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب یوکرین نے حالیہ ہفتوں میں روس کے اندر، خصوصاً ایندھن کی تنصیبات اور 2014 میں روس کے زیرِ قبضہ آنے والے جزیرہ نما کریمیا پر متعدد ڈرون حملے کیے ہیں، جن سے روس کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے چند روز قبل خبردار کیا تھا کہ روس ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے اور شہریوں کو غیر معمولی احتیاط برتنے کی ہدایت کی تھی۔
حملوں کے بعد سوشل میڈیا پر جلتی ہوئی رہائشی عمارتوں، تباہ شدہ گاڑیوں اور دھویں کے بادلوں کی تصاویر اور ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں۔
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ فروری 2022 سے جاری ہے، جبکہ مشرقی یوکرین کے ڈونیٹسک خطے میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان شدید لڑائی بدستور جاری ہے۔