ہر وقت تھکن اور توجہ کی کمی کیوں محسوس ہوتی ہے؟ نئی تحقیق میں اہم انکشافات

حالیہ طبی تحقیقات میں مسلسل تھکن اور برین فوگ یعنی توجہ، یادداشت اور سوچنے کی رفتار میں کمی کو کسی ایک وجہ سے منسلک کرنے کے بجائے متعدد جسمانی عوامل کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق دماغی سوزش، مدافعتی نظام میں تبدیلی، خراب نیند اور خلیوں میں توانائی بنانے کے نظام کی خرابی اس میں کردار ادا کر سکتی ہے۔

تحقیقات میں نیورو انفلیمیشن یعنی دماغی سوزش کو ایک اہم ممکنہ عامل سمجھا جا رہا ہے۔ طویل بیماری، بعض وائرل انفیکشنز یا مدافعتی نظام کی مسلسل سرگرمی کے دوران پیدا ہونے والے سوزشی مادے دماغ کے معمول کے کام کو متاثر کر سکتے ہیں، جس سے سوچنے کی رفتار، توجہ اور ذہنی توانائی میں کمی محسوس ہو سکتی ہے۔

سائنسدان خلیوں کے اندر موجود مائٹوکانڈریا پر بھی توجہ دے رہے ہیں، جو جسم اور دماغ کے لیے توانائی بناتے ہیں۔ ME/CFS اور لانگ کووڈ سے متعلق تحقیقات میں خلیاتی توانائی کے نظام میں تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں، جن کے باعث دماغ اور جسم کو مطلوبہ توانائی دستیاب نہ رہنے کا امکان زیرِ تحقیق ہے۔

نیند بھی برین فوگ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ 2026 میں شائع ہونے والے ایک سائنسی جائزے کے مطابق خراب نیند، نیورو انفلیمیشن اور آنتوں اور دماغ کے درمیان نظام میں تبدیلیاں برین فوگ سے منسلک عوامل میں شامل ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف مریضوں میں اس کیفیت کی وجوہ مختلف ہو سکتی ہیں۔

لانگ کووڈ پر حالیہ تحقیقات نے بھی اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنایا ہے۔ ستمبر میں شائع ایک brain-imaging تحقیق میں لانگ کووڈ کے مریضوں میں dopamine خارج کرنے والے دماغی خلیوں میں ممکنہ نقصان کے شواہد سامنے آئے، جو تھکن، سست روی اور یادداشت کے مسائل سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ تاہم محققین نے اسے ابھی ایک ممکنہ میکانزم قرار دیا ہے، حتمی وجہ نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں