ترکیہ کی پارلیمان نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دے دی

ترکیہ کی پارلیمان نے جمعرات کو پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق سے متعلق بل منظور کر لیا ہے، جس کے بعد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے کے نفاذ کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ پارلیمان میں اس بل کے حق میں 279 اور مخالفت میں 119 ووٹ ڈالے گئے، جبکہ 592 ارکان پر مشتمل ایوان کے 398 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ لیا۔

خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق اس بل کا باضابطہ نام ’’جمہوریہ ترکیہ، پاکستان اور مملکت سعودی عرب کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری کا بل‘‘ ہے۔ پارلیمان میں طویل بحث کے بعد اسے منظور کیا گیا۔ حکمران جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ (آق) پارٹی کے رکن ضیا آلتونیالڈز نے کہا کہ اس معاہدے کا مقصد خطے میں سکیورٹی تعاون کو وسعت دینا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ تنازعات کو بڑھانے کے بجائے ان کی روک تھام کے لیے ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے معاہدے کے دائرہ کار اور اس کی نگرانی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔ ریپبلکن پیپلز پارٹی کے رکن مہمت گوزل منسور نے کہا کہ واضح قواعد و ضوابط ضروری ہیں تاکہ یہ معاہدہ ترکیہ کی دیگر بین الاقوامی ذمہ داریوں سے متصادم نہ ہو۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں ہونے والے سہ فریقی سربراہی اجلاس کے دوران اس دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے، دفاعی تعاون بڑھانے اور خطے سمیت عالمی سطح پر امن و استحکام کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ معاہدے میں یہ طے کیا گیا ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی مسلح جارحیت کی صورت میں باقی ممالک اجتماعی معاونت فراہم کریں گے، تاہم اس معاونت کی نوعیت اور دائرہ کار کا فیصلہ حالات کے مطابق مشترکہ طور پر کیا جائے گا۔

گزشتہ ماہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے بتایا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب معاہدے کی توثیق کا عمل مکمل کر چکے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے ملکی قانونی طریقہ کار کے مطابق ضروری کارروائی کر رہا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب توثیق کا عمل مکمل کر چکے ہیں اور ترکیہ میں اس حوالے سے قانونی کارروائی جاری ہے۔

معاہدے پر عمل درآمد کی جانب پیش رفت اس وقت بھی سامنے آئی تھی جب 5 اکتوبر کو ریاض میں اتحاد کی اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں اجتماعی دفاعی ذمہ داریوں پر فوری عمل درآمد اور سعودی عرب میں پہلے سے طے شدہ فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی پر زور دیا گیا تھا۔ تاہم اس اقدام کو تینوں ممالک کے قومی قوانین سے مشروط رکھا گیا تھا۔ یہ پیش رفت سعودی عرب پر یمن کی انصار اللہ تحریک کے حملوں کے باعث خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں