پاکستان کے شمالی علاقے چترال میں خزاں کی آمد کے ساتھ ہی قدرت کا منظر بدل جاتا ہے۔ خوبانی، اخروٹ اور سفیدے سمیت مختلف درختوں کے پتے زرد، سنہری اور سرخی مائل رنگ اختیار کرکے زمین پر بکھرنے لگتے ہیں۔ پہاڑوں کے درمیان آباد دیہات اور باغات ان رنگوں سے سج جاتے ہیں، لیکن چترال کے بعض گھروں میں خزاں کے یہ خشک پتے محض قدرتی حسن کا حصہ نہیں بلکہ سردیوں کی تیاری کے لیے ایک ممکنہ قدرتی وسیلہ بھی ہیں۔
ان پتوں کو جمع کرکے محفوظ کرنے کے پیچھے ایندھن، جانوروں کے بچھونے، کھاد اور زمین کو سردی سے بچانے جیسے مختلف مقاصد ہوسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک دلچسپ روایتی حرارتی انتظام گرم کرسی بھی ہے، جس سے ملتے جلتے طریقے ایران، افغانستان، وسطی ایشیا اور جاپان میں صدیوں سے رائج رہے ہیں۔
تاہم چترال میں سفیدے، خوبانی اور اخروٹ کے پتوں کو خاص طور پر گرم کرسی کے ایندھن کے طور پر محفوظ کرنے کی روایت کی مستند مقامی تصدیق دستیاب نہیں۔ اس لیے اس استعمال کو ایک ممکنہ مقامی طریقے کے طور پر سمجھنا چاہیے، نہ کہ پورے چترال میں ثابت شدہ عمومی روایت۔
چترال کی خزاں، رنگ بدلتے درخت اور سردیوں کی تیاری
چترال پاکستان کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں موسموں کی تبدیلی قدرتی مناظر پر نمایاں اثر ڈالتی ہے۔ موسم خزاں میں درختوں کے پتے زرد اور سرخ رنگ اختیار کرتے ہیں، جبکہ سردیوں میں بالائی علاقوں میں شدید ٹھنڈ اور برف باری معمول کی بات ہے۔
پاکستانی اخبار ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق چترال میں خوبانی، شہتوت اور سفیدے کے درختوں سے پتوں کے جھڑنے کے بعد وادیوں میں سنہری رنگ نمایاں ہوجاتا ہے۔ چترال کی مقامی زبان کھوار کے ادب اور لوک گیتوں میں بھی خزاں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
سرد علاقوں میں خشک پتوں کو محفوظ کرنا کئی لحاظ سے مفید ہوسکتا ہے۔ انہیں قدرتی کھاد بنانے، باغات کی زمین ڈھانپنے یا مویشیوں کے لیے بچھونے کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بعض علاقوں میں خشک نباتاتی مواد ایندھن کا کام بھی دیتا ہے۔
چترال میں سردیوں کے دوران گھروں کو گرم رکھنا ایک اہم ضرورت ہے۔ مقامی ماحولیات سے متعلق رپورٹس میں لکڑی پر انحصار اور اس کے نتیجے میں جنگلات پر بڑھتے دباؤ کا ذکر بھی ملتا ہے۔
گرم کرسی کیا ہے؟
گرم کرسی ایک روایتی حرارتی انتظام ہے جس کا بنیادی تصور نہایت سادہ ہے: پورے کمرے کو گرم کرنے کے بجائے ایک محدود جگہ پر حرارت محفوظ کی جائے، جہاں گھر کے افراد بیٹھ کر سردی سے بچ سکیں۔
اس انتظام میں عموماً ایک نسبتاً نیچی لکڑی کی میز یا چوکھٹا ہوتا ہے جس پر موٹا لحاف یا کمبل ڈال دیا جاتا ہے۔ میز کے نیچے حرارت کا ذریعہ موجود ہوتا ہے اور لوگ اس کے گرد بیٹھ کر اپنے پاؤں لحاف کے اندر رکھتے ہیں۔
ماضی میں مختلف علاقوں میں اس کے لیے انگاروں یا دوسرے روایتی ایندھن سے حرارت حاصل کی جاتی تھی، جبکہ جدید دور میں بعض جگہ برقی حرارتی نظام استعمال کیے جاتے ہیں۔
گرم کرسی کی اہمیت صرف سردی سے بچاؤ تک محدود نہیں رہی۔ یہ گھریلو زندگی، باہمی میل جول اور خاندان کے افراد کے ایک جگہ جمع ہونے کی روایت سے بھی وابستہ رہی ہے۔
ایران میں کرسی کی تاریخی روایت
ایران میں اس روایتی حرارتی انتظام کو کرسی (Korsi) کہا جاتا ہے۔
انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا کے مطابق ایرانی گھروں میں کرسی لکڑی کے ایک چوکھٹے پر مشتمل ہوتی تھی، جس کے نیچے حرارت کا ذریعہ اور اوپر موٹا لحاف رکھا جاتا تھا۔ گھر کے افراد اس کے گرد بیٹھ کر چائے پیتے، کھانا کھاتے اور گفتگو کرتے تھے۔
اس نظام کا ذکر فارسی تاریخی مواد میں کئی صدیوں پہلے ملتا ہے۔ ایران میں کرسی صرف گھریلو حرارت کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی زندگی کا بھی اہم حصہ رہی ہے۔
کیمبرج یونیورسٹی کے علمی جریدے ایرانی مطالعات میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ایران کے کئی سرد علاقوں میں کرسی موسم خزاں سے بہار تک استعمال ہوتی تھی۔ بعد میں تیل، گیس اور جدید ہیٹنگ نظام کی دستیابی نے گھروں میں اس کی اہمیت کم کردی۔
افغانستان میں صندلی، سردیوں کی گھریلو روایت
افغانستان میں گرم کرسی سے ملتے جلتے انتظام کو صندلی (Sandali) کہا جاتا ہے۔
یہ روایت خاص طور پر سرد موسم میں خاندان کے افراد کو ایک جگہ جمع کرنے سے وابستہ رہی ہے۔ صندلی کے گرد بیٹھ کر لوگ چائے پیتے، کھانا کھاتے اور روزمرہ معاملات پر گفتگو کرتے تھے۔
افغانستان میں صندلی کا ذکر تاریخی اور ثقافتی حوالوں میں ملتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا بھی افغانستان اور بلوچستان میں اس نوعیت کے حرارتی انتظام کے لیے صندلی کی اصطلاح بیان کرتا ہے۔
ازبکستان اور تاجکستان میں سندل
وسطی ایشیا میں بھی یہ روایت موجود ہے، خصوصاً ازبکستان اور تاجکستان میں اسے سندل یا صندلی کے نام سے جانا جاتا ہے۔
جنوری 2024 میں ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ازبکستان میں توانائی کے مسائل کے دوران بعض خاندانوں نے روایتی سندل کا استعمال دوبارہ شروع کیا۔
رپورٹ کے مطابق سندل ایک چھوٹی میز ہوتی ہے جس کے اوپر کمبل اور نیچے حرارت کا ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ انتظام جاپانی کوتاتسو سے بھی مشابہت رکھتا ہے۔
وسطی ایشیا کی ثقافتی تاریخ پر تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ سندل خاندانوں کے لیے صرف حرارت کا ذریعہ نہیں بلکہ مشترکہ گھریلو زندگی کا مرکز بھی رہا ہے۔
جاپان میں کوتاتسو، قدیم روایت کی جدید شکل
جاپان میں اسی بنیادی تصور پر قائم حرارتی انتظام کو کوتاتسو (Kotatsu) کہا جاتا ہے۔
جاپانی کوتاتسو عموماً ایک نیچی میز پر مشتمل ہوتا ہے جس کے نیچے برقی ہیٹر نصب ہوتا ہے اور اوپر کمبل رکھا جاتا ہے۔
جاپان میں اس روایت کی تاریخ کئی صدیوں پرانی ہے۔ ابتدا میں اس کا تعلق روایتی گھریلو آتش دان سے تھا، لیکن وقت کے ساتھ اس کی شکل تبدیل ہوتی گئی۔
آج بھی جاپان کے متعدد گھروں میں کوتاتسو سردیوں کے دوران استعمال ہوتا ہے۔ خاندان کے افراد اس کے گرد بیٹھ کر کھانا کھاتے، ٹیلی ویژن دیکھتے اور وقت گزارتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران کی کرسی، افغانستان کی صندلی، ازبکستان کے سندل اور جاپان کے کوتاتسو میں بنیادی تصور یکساں ہے، اگرچہ ان کی ساخت، تاریخی ارتقا اور حرارت حاصل کرنے کے طریقوں میں فرق پایا جاتا ہے۔
ان تمام روایات کا کسی ایک مشترکہ تاریخی مقام سے آغاز ہونا قطعی طور پر ثابت نہیں۔
کیا گرم کرسی آج بھی اہمیت رکھتی ہے؟
جدید دور میں گیس ہیٹر، بجلی اور مرکزی حرارتی نظام نے روایتی طریقوں کی جگہ کافی حد تک لے لی ہے۔ اس کے باوجود گرم کرسی اور اس سے ملتے جلتے انتظامات کی ثقافتی اہمیت برقرار ہے۔
اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ محدود جگہ کو گرم رکھنے کا تصور توانائی کے نسبتاً کم استعمال سے وابستہ ہوسکتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ روایت خاندان کے افراد کو ایک جگہ جمع ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
تاہم روایتی انگاروں یا کوئلے سے چلنے والے حرارتی انتظامات میں کاربن مونو آکسائیڈ کے زہریلے اثرات اور آگ لگنے کے خطرات موجود ہوتے ہیں، خصوصاً بند کمروں میں۔ اس لیے جدید محفوظ حرارتی نظام کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
خشک پتوں سے جڑی روایت کو محفوظ کرنے کی ضرورت
چترال میں خشک پتوں کو جمع کرنے کے مقامی طریقوں اور ان کے مختلف استعمالات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
خصوصاً یہ جاننا اہم ہوگا کہ کون سے دیہات میں سفیدے، خوبانی اور اخروٹ کے پتے محفوظ کیے جاتے ہیں، انہیں کس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور آیا ان کا تعلق گرم کرسی سے بھی ہے۔
مقامی بزرگوں، خواتین اور ثقافتی محققین کے بیانات اس سلسلے میں اہم معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔
یہ تحقیق اس لیے بھی ضروری ہے کہ روایتی گھریلو طریقے محض روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے ذرائع نہیں ہوتے بلکہ ان میں کسی علاقے کی معاشی تاریخ، ماحول سے تعلق اور سماجی زندگی کی جھلک بھی محفوظ ہوتی ہے۔
نتیجہ: ایک روایت، کئی تہذیبیں
چترال کی سنہری خزاں سے لے کر ایران کی کرسی، افغانستان کی صندلی، ازبکستان کے سندل اور جاپان کے کوتاتسو تک، سردی سے بچنے کے روایتی انتظامات میں ایک دلچسپ ثقافتی مماثلت دکھائی دیتی ہے۔
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف معاشروں نے اپنے موسمی حالات اور دستیاب وسائل کے مطابق حرارت محفوظ کرنے کے طریقے اختیار کیے۔
گرم کرسی کی اصل اہمیت صرف حرارت نہیں بلکہ وہ گھریلو ماحول بھی ہے جہاں خاندان کے افراد ایک جگہ جمع ہوتے، گفتگو کرتے اور سردیوں کی طویل راتیں ایک ساتھ گزارتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ جدید سہولتوں کے باوجود گرم کرسی جیسی روایات آج بھی ثقافتی تاریخ کا ایک قابلِ توجہ حصہ ہیں۔