سائنس دانوں نے برازیل میں دریافت ہونے والے تقریباً ساڑھے 11 کروڑ سال پرانے ڈائنوسار کے فوسل میں خون کے سرخ خلیوں سے مشابہ ساختیں اور خون سے متعلق کیمیائی اجزا کے آثار دریافت کیے ہیں۔ محققین کے مطابق یہ ڈائنوسار کے فوسل میں خون کے خلیوں کی موجودگی کے حوالے سے اب تک سامنے آنے والے مضبوط ترین سائنسی شواہد میں سے ایک ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ دریافت گوشت خور ڈائنوسار کی ایک قسم Aratasaurus museunacionali کی دائیں ٹانگ کی ہڈیوں میں ہوئی ہے، جو تقریباً 11 کروڑ 50 لاکھ سال قبل موجودہ برازیل کے علاقے میں پایا جاتا تھا۔ یہ ڈائنوسار دو ٹانگوں پر چلتا تھا اور اس کی لمبائی تقریباً 3.1 میٹر تھی۔ سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ مرنے کے وقت اس کی عمر تقریباً چار سال تھی۔
محققین کو فوسل کی ہڈیوں میں موجود خون کی نالیوں کی باریک گزرگاہوں کے اندر متعدد خوردبینی ساختیں ملیں، جو خون کے سرخ خلیوں سے مشابہت رکھتی ہیں۔ ان ساختوں کے ساتھ ہیم (Heme) نامی آئرن پر مشتمل سالمے کے کیمیائی آثار بھی دریافت ہوئے۔ ہیم، ہیموگلوبن کا اہم حصہ ہے، جو خون کو سرخ رنگ دینے اور جسم میں آکسیجن کی ترسیل میں کردار ادا کرتا ہے۔
آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی سے وابستہ تحقیق کی سربراہ پروفیسر کلیٹی گرائس کے مطابق یہ دریافت اس لیے غیر معمولی ہے کہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں سال گزرنے کے باوجود ہڈیوں میں خلیوں جیسی ساختیں اور ان کی حیاتیاتی اصل سے متعلق کیمیائی شواہد ایک ساتھ محفوظ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سائنس دانوں کو ڈائنوسار کا اصل خون نہیں ملا بلکہ قدیم حیاتیاتی مادے کے معدنی اور سالماتی آثار ملے ہیں۔
یہ تحقیق سائنسی جریدے Proceedings of the National Academy of Sciences میں 2 نومبر کو شائع ہوئی۔ محققین کو ہڈیوں میں کولیجن نامی پروٹین سے متعلق امینو ایسڈز کے آثار بھی ملے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈائنوسار کے اصل پروٹین یا جینیاتی مادے مکمل حالت میں محفوظ ہیں۔ تحقیق میں ڈائنوسار کا ڈی این اے بھی دریافت نہیں ہوا۔
برازیل کے نیشنل میوزیم سے وابستہ ماہرِ قدیم حیاتیات الیگزینڈر کیلنر کے مطابق ڈائنوسار کا یہ فوسل شمال مشرقی برازیل کی ریاست سیارا میں جپسم کی ایک کان سے ملا تھا۔ دریافت ہونے والی باقیات میں دائیں ران، پنڈلی اور پاؤں کی ہڈیوں کے حصے شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر ڈائنوسار کی سخت ہڈیاں اور دانت فوسل کی شکل میں محفوظ رہ جاتے ہیں، لیکن خون کے خلیوں جیسے نرم حیاتیاتی اجزا کے آثار ملنا انتہائی غیر معمولی ہے۔
تحقیق کے نتائج سے یہ امکان سامنے آیا ہے کہ مخصوص حالات میں قدیم جانداروں کے حیاتیاتی مادے کے بعض کیمیائی آثار پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ طویل عرصے تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق ایسی دریافتیں ڈائنوسار کی جسمانی ساخت، حیاتیاتی افعال اور ارتقائی تاریخ کو سمجھنے میں نئی معلومات فراہم کر سکتی ہیں، تاہم خون کے خلیوں کی شناخت اور ان کے تحفظ کے طریقۂ کار پر مزید تحقیق ضروری ہے۔