ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اسر-ائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد اس کی مسلح افواج پہلے سے زیادہ مضبوط، چوکس اور پُراعتماد ہو چکی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے ہفتے کو سرکاری خبر رساں ادارے ارنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اور اسر-ائیلی افواج کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی سے ایرانی فوج کو تجربہ حاصل ہوا ہے۔ ان کے بقول ایرانی افواج اب جنگ کے آغاز کے مقابلے میں زیادہ چوکس اور مضبوط ہیں اور ان کے حوصلے، عزم اور خود اعتمادی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ایرانی فوجی ترجمان نے کہا کہ سپریم لیڈر کے حکم کے تحت کسی بھی حملے کی صورت میں مسلح افواج فوری اور مؤثر جواب دیں گی، جس کی کوئی جغرافیائی حدود نہیں ہوں گی۔ انہوں نے آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اہم بحری گزرگاہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ ایران کے مطالبات پورے نہیں کرتا۔
امریکہ کی جانب سے 2 کروڑ ڈالر انعام کا اعلان
دوسری جانب امریکی فوج نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے 2 کروڑ ڈالر انعام اور ممکنہ طور پر محفوظ مقام پر منتقلی کی پیشکش کی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ پروگرام 1984ء میں قومی سلامتی سے متعلق انعامی اسکیم کے تحت شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد امریکی شہریوں اور مفادات کے تحفظ میں مددگار معلومات حاصل کرنا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے حفاظتی تقاضوں پر عمل نہ کرنے کے باعث ادارے کی ایرانی جوہری پروگرام کے بعض اہم اجزا، خصوصاً سینٹری فیوجز کی پیداوار اور ذخیرے سے متعلق معلومات تک مسلسل رسائی متاثر ہوئی ہے۔ تاہم امریکہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کس نوعیت کی معلومات فراہم کرنے پر 2 کروڑ ڈالر کا انعام دیا جائے گا۔