افغانستان میں تقریباً 37 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، سیو دی چلڈرن کی رپورٹ

برطانوی امدادی ادارے سیو دی چلڈرن نے کہا ہے کہ افغانستان میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً ہر 10 میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے، جبکہ متاثرہ بچوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ادارے کے مطابق 2026 میں شدید غذائی قلت سے متاثرہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کی تعداد 37 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ چار برس کے دوران 14 فیصد اضافہ ہے۔

سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ 2026 کی دوسری سہ ماہی میں افغانستان کے دو تہائی صوبوں میں بچوں میں شدید غذائی قلت کی شرح گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں مزید خراب ہوئی۔ ادارے کے مطابق انسانی امداد میں کمی کے باعث تقریباً 600 بنیادی صحت مراکز بند ہو چکے ہیں۔ ان مراکز پر تقریباً 40 لاکھ افراد انحصار کرتے تھے اور ان میں نصف بچے تھے۔

الجزیرہ کے مطابق افغانستان کے لیے انسانی امداد گزشتہ چار برس میں تقریباً 70 فیصد کم ہوئی، جو 2022 میں 3.27 ارب ڈالر سے گھٹ کر 2025 میں ایک ارب ڈالر رہ گئی۔

سیو دی چلڈرن کے مطابق 2026 میں اب تک صرف 43 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی انسانی امداد حاصل ہو سکی ہے، جس کے باعث درکار فنڈنگ میں 74 فیصد کمی موجود ہے۔

ادارے نے کہا کہ ستمبر 2023 سے افغانستان کی آبادی میں تقریباً 12 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ پاکستان اور ایران سے 60 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی واپسی ہے۔

سیو دی چلڈرن افغانستان کے سربراہ آشیش داملے نے کہا ہے کہ شدید بھوک، بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کی واپسی، قدرتی آفات اور تنازعات کے باعث اندرونی نقل مکانی اور چار سال سے جاری خشک سالی نے محدود امدادی وسائل پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں