افغانستان میں افغان عبوری حکومت کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے پانچ سال مکمل ہونے پر اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث خواتین کے لیے کام کرنے والی نصف سے زائد تنظیمیں آئندہ ایک سال میں اپنی سرگرمیاں معطل یا مکمل طور پر بند کر سکتی ہیں۔
اقوام متحدہ کی خواتین سے متعلق تنظیم یو این ویمن کی افغانستان میں خصوصی نمائندہ سوزن فرگوسن نے امداد دینے والے ممالک سے اپیل کی ہے کہ خواتین کے پروگرامز کے لیے فنڈنگ میں مزید کمی نہ کی جائے۔ ان کے مطابق اپریل میں سروے کی گئی 74 خواتین تنظیموں میں سے نصف سے زیادہ کو آئندہ ایک سال کے دوران کام بند کرنے یا معطل کرنے کا خطرہ ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اقوام متحدہ کی افغانستان کے لیے 1.7 ارب ڈالر کی انسانی امداد کی اپیل کا اب تک صرف 25 فیصد حصہ پورا ہوا ہے۔ تقریباً تین چوتھائی خواتین تنظیموں کو 2025 میں فنڈنگ میں کمی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دو تہائی کے پاس 6 ماہ یا اس سے کم عرصے کے اخراجات کے لیے رقم باقی ہے۔
سوزن فرگوسن نے کہا ہے کہ افغان عبوری حکام نے اقتدار میں واپسی کے بعد خواتین کے حقوق محدود کرنے کے لیے 100 سے زائد احکامات جاری کیے ہیں، جن سے تعلیم، روزگار، نقل و حرکت، صحت اور انصاف تک رسائی سمیت روزمرہ زندگی کے تقریباً تمام شعبے متاثر ہوئے ہیں۔
یو این ویمن کے سروے میں شامل 3 ہزار 200 خواتین میں سے نصف سے زائد نے بتایا کہ وہ اب مہینے میں صرف ایک یا دو مرتبہ گھر سے باہر نکلتی ہیں، جبکہ ہر 10 میں سے 7 خواتین نے اپنی ذہنی صحت کو خراب یا بہت خراب قرار دیا۔
جمعہ کو برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان، لبنان، امریکا اور متحدہ عرب امارات سمیت 56 ممالک نے اقوام متحدہ میں مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے افغان حکام سے خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیاں واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
یونیسکو کے مطابق افغانستان میں تقریباً 24 لاکھ لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہیں۔
اقتدار میں آنے کے بعد افغان حکام نے چھٹی جماعت سے آگے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کر دی، جبکہ بعد میں خواتین کو جامعات میں تعلیم حاصل کرنے سے بھی روک دیا گیا۔ خواتین پر پارکوں، جم، کھیلوں اور مرد سرپرست کے بغیر طویل سفر سمیت دیگر پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔
افغانستان میں انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے کہا ہے کہ اگرچہ جنگ کا دور ختم ہوا ہے، لیکن یہ سوال برقرار ہے کہ آیا ملک میں حقیقی امن قائم ہوا ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی صورتحال مسلسل خراب ہوئی ہے، خصوصاً خواتین اور لڑکیوں کے لیے حالات انتہائی سنگین ہیں۔ رچرڈ بینیٹ کے مطابق افغانستان میں من مانی گرفتاریاں، تشدد، ماورائے عدالت قتل، جسمانی سزائیں، جبری گمشدگیاں، آزادی اظہار پر پابندیاں اور صحافیوں و انسانی حقوق کے کارکنوں پر حملوں کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری کو افغان حکام کی پالیسیوں کو معمول کا حصہ سمجھ کر قبول کرنے سے خبردار کیا۔
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ افغانستان کے ایک تہائی صوبوں میں بچوں میں غذائی قلت سنگین سطح تک پہنچ چکی ہے اور فنڈنگ میں کمی کے باعث صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب افغان حکام نے کابل کے لویہ جرگہ ہال میں اقتدار کے پانچ سال مکمل ہونے پر تقریب منعقد کی، جہاں قیادت نے ملک میں استحکام اور طویل تنازع کے خاتمے کو اپنی کامیابی قرار دیا۔
افغان عبوری حکام نے 15 اگست 2021 کو اس وقت اقتدار سنبھالا جب امریکا اور نیٹو افواج دو دہائیوں کی جنگ کے بعد افغانستان سے واپس جا رہی تھیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے عالمی برادری سے افغان عبوری حکومت کے ساتھ روابط بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جن ممالک نے افغانستان کی موجودہ حکومت کے ساتھ رابطہ اور تعاون کیا ہے، انہیں اس سے فائدہ ہوا ہے، جبکہ دیگر ممالک کو بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
افغان عبوری حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے ملک کو جنگ، عدم تحفظ اور بیرونی قبضے سے محفوظ رکھنے کی دعا کی۔