ٹرمپ نے ممکنہ ایرانی حملے کے باعث طیارہ تبدیل کیا، مارکو روبیو اور اسکاٹ بیسنٹ اسی طیارے میں رہے، اے پی کی رپورٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے واسپی پر ممکنہ ایرانی خطرے کے باعث خفیہ طور پر اپنا طیارہ تبدیل کیا، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اُس طیارے میں موجود رہے، جسے بظاہر صدر کی پرواز ظاہر کیا جا رہا تھا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ کو ایک چھوٹے فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا، جبکہ روبیو اور بیسنٹ پرانے ایئر فورس ون میں ہی سفر کرتے رہے۔

عہدیدار کے مطابق مارکو روبیو طیارے کی تبدیلی اور اس کے پیچھے موجود خطرے سے آگاہ تھے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ ڈیکوائے طیارے میں کیوں موجود رہے۔ اسکاٹ بیسنٹ کے بارے میں عہدیدار نے کہا کہ ممکنہ طور پر انہیں بھی صورتحال کا علم تھا۔

رپورٹ کے مطابق صدر کی سکیورٹی کے انتظامات کابینہ کے اعلیٰ ترین عہدیداروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت ہوتے ہیں، خصوصاً ایسے صدر کے لیے جو پہلے بھی قاتلانہ حملوں کا نشانہ بن چکے ہوں۔

واشنگٹن پوسٹ نے اس ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ ترکیہ سے روانگی کے وقت ٹرمپ کو کیٹرنگ گاڑی کے ذریعے خفیہ طور پر ایک دوسرے فوجی طیارے تک پہنچایا گیا، جبکہ صحافیوں اور وائٹ ہاؤس کے بعض اہلکاروں کو یہ تاثر دیا گیا کہ صدر پرانے ایئر فورس ون میں سفر کر رہے ہیں۔

اس سے قبل امریکی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ انٹیلی جنس حکام نے صدر یا ان کے طیارے پر ممکنہ ایرانی حملے کے خدشات ظاہر کیے تھے، جس کے بعد اضافی حفاظتی اقدامات کیے گئے۔

ٹرمپ نے منگل کو خود بھی طیارے کی تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سیکریٹ سروس اور فوج کی ہدایات پر عمل کیا اور انہی کے مشورے پر دوسرے طیارے میں سفر کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں