ازبکستان نے عدالتی نظام کو جدید بنانے کے لیے ’جسٹس 2030‘ حکمتِ عملی منظور کر لی ہے، جس کے تحت ڈیجیٹل عدالتوں کی توسیع، نئی بین العلاقائی عدالتوں کا قیام، فوجداری مقدمات کے نئے معیارات اور ثالثی و مصالحت کے طریقہ کار کو فروغ دیا جائے گا۔
صدر شوکت مرزائیوف نے عدالتی اور قانونی اصلاحات کا جائزہ لینے کے بعد اس حکمتِ عملی کی منظوری دی۔ منصوبے میں 57 اہداف شامل ہیں، جبکہ 2026 سے 2028 کے پروگرام میں 160 عملی اقدامات رکھے گئے ہیں اور 2030 تک 33 اہم اہداف حاصل کرنے کا منصوبہ ہے۔
حکمتِ عملی کے تحت یکم جولائی 2027 سے پانچ نئی بین العلاقائی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ علاقائی عدالتیں اپیل اور کیسشن کے اختیارات برقرار رکھیں گی، جبکہ فیصلوں کے دوبارہ جائزے کا اختیار نئی عدالتوں کو منتقل کیا جائے گا تاکہ عدالتوں کی جانب سے اپنے ہی فیصلوں کا جائزہ لینے کی روایت ختم کی جا سکے۔
شہریوں کے لیے عدالتی خدمات کو ’ون اسٹاپ شاپ‘ نظام کے تحت لایا جائے گا، جہاں معلومات، درخواستیں اور ڈیجیٹل سہولیات ایک ہی نظام سے دستیاب ہوں گی۔ غلط عدالت میں جمع ہونے والی درخواست کو واپس کرنے کے بجائے متعلقہ عدالت کو منتقل کیا جائے گا۔
فوجداری مقدمات میں ’معقول شبہ‘ کا نیا معیار متعارف کرانے کا منصوبہ ہے، جبکہ تحقیقاتی ججز کو حراست کی قانونی حیثیت اور ابتدائی شواہد کا جائزہ لینے کا اختیار دیا جائے گا۔ اقتصادی مقدمات میں بھی غیر ضروری مراحل کم کرنے کے لیے نیا طریقہ کار متعارف ہوگا۔
حکمتِ عملی میں عدالتی فیصلوں میں یکسانیت کے لیے کھلا رجسٹر آف پریسیڈنٹس قائم کرنے، ثالثی اور مصالحت کو فروغ دینے اور عدالتی عملے کی تربیت بہتر بنانے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ صدر شوکت مرزائیوف نے اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ فرمان پر دستخط کر دیے ہیں۔