اسپین کے مختلف شہروں اور قصبوں میں بدھ کے روز لاکھوں افراد نے ایک صدی سے زائد عرصے بعد مکمل سورج گرہن کا نظارہ کیا۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سورج، چاند اور زمین ایک سیدھ میں آنے کے باعث اسپین کے شمالی اور وسطی علاقوں میں کچھ وقت کے لیے مکمل اندھیرا چھا گیا، جس پر لوگوں نے تالیاں بجا کر اور خوشی کا اظہار کرکے اس نایاب منظر کا استقبال کیا۔
مکمل سورج گرہن شمالی اور وسطی اسپین اور پرتگال کے وسیع علاقوں کے علاوہ گرین لینڈ اور آئس لینڈ کے کچھ حصوں میں بھی دیکھا گیا۔
مکمل گرہن کا دورانیہ ڈھائی منٹ سے کم رہا، جبکہ اسپین اور پرتگال پہنچنے تک بعض مقامات پر مکمل تاریکی تقریباً ایک منٹ تک برقرار رہی۔
ہسپانوی حکام کے مطابق اس نایاب فلکیاتی منظر کو دیکھنے کے لیے کم از کم پانچ لاکھ اضافی سیاح ملک پہنچے۔ رپورٹ کے مطابق مکمل گرہن کی گزرگاہ میں واقع آ کورونیا، بلباؤ اور سانتیاگو دے کمپوسٹیلا جیسے شہروں میں ہوٹلوں کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا۔
اسپین میں سورج گرہن ایسے وقت دیکھا گیا جب ملک کے متعدد علاقوں میں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ تھا اور جنگلاتی آگ کا خطرہ بھی موجود تھا۔ حکام نے تقریباً 350 سرکاری مشاہداتی مقامات قائم کیے جبکہ 33 ہزار 500 سے زائد قانون نافذ کرنے والے اہلکار تعینات کیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق خصوصی حفاظتی چشموں کی مانگ بھی بہت زیادہ رہی اور متعدد فارمیسیوں اور دکانوں میں یہ گرہن سے پہلے ہی فروخت ہو گئے تھے۔
آئس لینڈ کے دارالحکومت ریکیاوک میں بھی بادلوں اور بارش کے باوجود سینکڑوں افراد گرہن دیکھنے کے لیے جمع ہوئے۔ سورج واضح طور پر دکھائی نہ دینے کے باوجود مکمل گرہن کے وقت اچانک اندھیرا چھا گیا جس پر لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا۔
آئس لینڈ میں یہ 1954 کے بعد پہلا مکمل سورج گرہن تھا، جبکہ ریکیاوک سے ایسا منظر 1433 کے بعد پہلی مرتبہ دیکھا گیا۔
دوسری جانب برطانیہ میں مکمل گرہن نظر نہیں آیا، تاہم سورج کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ چاند کے پیچھے چھپ گیا تھا۔ لندن سمیت مختلف علاقوں میں لوگ کھلے مقامات اور بلند جگہوں پر جمع ہوئے، جہاں آسمان کا رنگ غیر معمولی طور پر سرمئی ہوگیا۔