گزشتہ چند دنوں میں “واسا” کے بل دیگر شہروں کی طرح بہاول پورپر بھی کچھ اس طرح سے بَرسے کہ جل تھل ایک ہو گیا۔ واسا کے بل اس قدر اچانک، زیادہ اورظالمانہ تھے کہ انہوں نے عوام کو پٹرول کی قیمتیں بھی بھلا دیں، مہنگائی بھی اُن کو یاد نہ رہی، اور دیگر مسائل بھی وہ بھول بیٹھے۔ عوام نے چونکہ کسی بھی چھوٹے بڑے مسئلے پر متحد نہ ہونے کی قسم اٹھا رکھی ہے، اس لئے انفرادی طور پر ہر کوئی اپنے اپنے بل تھامے بے بسی سے سر پیٹتا اور اپنا اپنا رونا روتا رہا۔ کسی دکان کا واٹر سپلائی یا سیوریج سے کوئی تعلق بھی نہیں، اسے بھی دس بیس ہزار کا بل تھما دیا گیا۔ کسی کو ایک کنال گھر پر بھی اتنا ہی بل ملا تو دوسرے کو دس مرلہ میں اس کے برابر بل مل گیا۔
آخر سوشل میڈیا میں کسی حد تک حرکت شروع ہوئی، لوگوں نے اپنی پوسٹیں جاری کرنے کے ساتھ ساتھ مل بیٹھنے کا بھی فیصلہ کیا۔ تاجر تنظیموں میں ہل چل مچی، بات بڑھی تو واسا حکام نے بھی انگڑائی لی۔ صارفین کو آگاہ کیا گیا کہ جو لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کے بل اصلاح طلب ہیں تو وہ اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ حصہ نکالیں اور واسا کے دفتر تشریف لے آئیں، تاکہ بلوں میں تصحیح کا کام مکمل کیا جا سکے۔ اگر کسی کے ہاں واٹر سپلائی نہیں ہے تو اس کا بل نہیں ڈالا جائے گا، یا کوئی بھی کمی بیشی ہے اسے دور کر دیا جائے گا۔
صارفین کے مطالبات کچھ اور تھے، اول یہ کہ بل جاری کرنے سے قبل سروے کس طریقے سے کیا گیا؟ (شاید سروے کرنے والے دل و دماغ یا دیدہ و بینا سے بھی محروم تھے) جدید ترین میڈیا کے دور میں صارفین کو آگاہ کیوں نہ کیا گیا کہ فلاں تاریخ سے بلوں کی ادائیگی شروع ہو جائے گی جبکہ بہت سے ایسے اعلانات ہوتے رہتے ہیں جن کے بارے میں سرکاری محکمے پہلے ہی عوام کو آگاہ کر دیتے ہیں کہ فلاں تاریخ سے ان پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا، بندوبست کر لیں، آخر واسا کے بلوں کو خفیہ کیوں رکھا گیا، اور سات ماہ کے بقایا جات کا وزن کیوں صارفین کی گردنوں پر ڈال دیا گیا؟ دوسرا اہم مطالبہ یہ تھا کہ عوام کو کم از کم ٹیرف کا علم تو ہونا چاہیے، اور ٹیرف ظالمانہ نہیں بلکہ لوگوں کی پہنچ میں ہونا چاہیے۔ تیسری دلچسپ بات یہ تھی کہ اگر کسی کے گھر میں پانی نکالنے والی بجلی کی موٹر موجود ہے تو اُس کا بھی ٹیکس وصول کیا جائے گا اور چوتھی بات یہ کہ جب واسا سے متعلق سہولیات ہی موجود نہیں تو پھر اس قدر بھاری بل کیوں؟ بلکہ سرے سے بل ہی کیوں؟
مندرجہ بالا چاروں مطالبات جائز اور سو فیصد حق بجانب تھے مگر حکومت کا مقصد عوام کو ریلیف دینا ہر گز نہیں ہوتا، بلکہ ایسے منصوبے تشکیل دیئے جاتے ہیں جن پر عمل کرنے سے حکومت کی آمدن میں اضافہ ہو سکے۔ جب ریاست ٹیکس لگاتی ہے تو اپنی رِٹ قائم رکھنے کے لئے پوری طاقت اور سرکاری مشینری کے ذریعے ریوینیو اکٹھا کرتی ہے۔ اپنی غلطی کبھی حکومت تسلیم نہیں کرتی، اپنے فیصلوں پر عمل کروانا ہی اس کا فرضِ اول ہوتا ہے۔
واسا کو بہت حد تک یہاں بھی مزاحمت کا سامنا ہوا، مگر کسی بھی اعصابی جنگ میں کامیاب تو وہی ہوتا ہے جو پُر عزم ہو اور اپنے فیصلوں پر ڈٹا رہے۔ واسا نے چھ ماہ کے سابقہ بل ختم کرنے کے مطالبے کو اگلے نو ماہ کی اقساط میں شامل کرنے کا جھانسہ دے کر صارفین کے غصے کو کسی حد تک کم اور آپس میں تقسیم کر دیا۔ رہا ٹیرف کا معاملہ وہ بھی وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ دب جائے گا۔ جب کسی بھی صورت میں صارفین ایک مرتبہ واسا کے جھانسے میں آ جائیں گے تو پھر آنے والے وقت میں ساری کسریں نکال لی جائیں گی۔ اول تو بقایا چھ ماہ کے بل معاف نہیں ہوتے، ان کی قسطوں کا پروگرام ہے، اگر بل معاف بھی کر دیے جائیں اور ٹیرف بھی کم کر دیا جائے اور تمام لوگوں کو صارف کے طور پر واسا میں رجسٹرڈ کر لیا جائے تو آنے والے وقت میں واپڈا کے ٹیرف کی طرح صارفین کی کھال کُند چھری سے اتاری جا سکتی ہے۔
ہمارے حکمران بیرونی ممالک سے بہت سے ماڈل سیکھ کر آتے ہیں، یہاں ان پر عمل کی کوشش کرتے ہیں، مگر ستم یہ ہے کہ سروسز کی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا، عوام کو دی جانے والی سہولتوں کا کوئی خیال نہیں رکھتا، بس جو عوام سے نچوڑا جائے گا، ساری توجہ اسی پر ہوتی ہے۔ بیرونی ممالک سے ہمارے حکمران یہ کبھی نہیں سیکھتے وہ خود سادگی اختیار کریں۔ ہمارے کنگال حکمران جب دوسرے ممالک کے سامنے کشکول اٹھائے بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں تو لینے والوں کے انداز دینے والوں سے بھی شاہانہ ہوتے ہیں۔ نہ وہاں سے حکمران یہ سیکھ کر آتے ہیں، عیاشی کی بجائے دیانتداری سے خدمت سرانجام دینی ہے۔
اپنے ہاں ستم یہ بھی ہے کہ یہاں فیصلے سیاسی حکمران نہیں بلکہ بیوروکریسی کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ یہ “سرکٹے افسر” جب ریوینیو نچوڑنے کے فارمولے حکمرانوں کے سامنے رکھتے ہیں تو انہیں فوری طور پر شرفِ قبولیت بخش دیا جاتا ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ عوام کے نمائندے ہم ہیں، ہمیں عوام کی ترجمانی کرنی چاہیے، بلکہ بیوروکریسی پر بھروسہ کر کے عوام کے خلاف فیصلے کر لیتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ٹیکس کے بغیر کوئی حکومت کامیابی سے نہیں چل سکتی۔ مگر انصاف، دیانت اور خدمت کا تقاضہ یہی ہے کہ عوام پر ناروا بوجھ نہ ڈالا جائے، جن چیزوں پر ٹیکس لیا جاتا ہے اس کی سہولتیں دیانتداری کے ساتھ عوام کو ملنی چاہیے۔ اب اگر عوام ٹیرف اور چھ ماہ کے گزشتہ بلوں سے متحد ہو کر جان نہیں چھڑوا سکتے اور واسا کے جھانسے میں آ جاتے ہیں تو بعد میں پچھتائے کچھ نہیں ہوگا، کیونکہ چڑیاں کھیت ہی نہیں چُگ چکی ہوں گی، بلکہ چیلیں گوشت بھی نوچ چکی ہوں گی۔ ایک ستم یہ بھی ہے کہ “چیلیں” عوام کا گوشت نوچ کر سیاسی حکمرانوں کو بھی حصہ دیتی ہیں، جس سے وہ خوش بھی ہیں اور خاموش بھی۔