پاکستان اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے، وہ کسی ایک فرد، جماعت، ادارے یا طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ ہے۔ سیاسی اختلافات نے معاشرتی تعلقات کو متاثر کیا ہے، معاشی مشکلات نے عام آدمی کی زندگی میں بے یقینی پیدا کی ہے، جبکہ سماجی تقسیم اور عدم برداشت نے ایک دوسرے کو سننے اور سمجھنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیا ہے۔ ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ اختلاف رائے کسی معاشرے کی کمزوری نہیں بلکہ جمہوری زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ مسئلہ اختلاف نہیں، اختلاف کے آداب کا ختم ہونا ہے۔ ایک شخص کسی سیاسی جماعت کا حامی ہے تو دوسرا کسی دوسری جماعت کا، کوئی حکومت کے مؤقف سے اتفاق کرتا ہے تو کوئی اپوزیشن کے ساتھ کھڑا ہے، لیکن اس اختلاف کی بنیاد پر ایک دوسرے کو دشمن سمجھ لینا کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم اپنی رائے رکھیں، سوال کریں، تنقید کریں اور اپنے پسندیدہ سیاسی یا سماجی مؤقف کا دفاع کریں، لیکن ساتھ ہی دوسرے شخص کے حقِ رائے کا احترام بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ اختلاف کو دشمنی بنانا آسان ہے، مگر اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ رہنا ہی اصل قومی شعور ہے۔ پاکستان کو آج ایسے شہریوں کی ضرورت ہے جو بلند آواز سے بولنے کے ساتھ ساتھ دوسرے کو سننے کا حوصلہ بھی رکھتے ہوں، جو تنقید کریں مگر تضحیک نہ کریں، جو سوال اٹھائیں مگر نفرت نہ پھیلائیں، اور جو اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے بھی دوسرے کے وجود اور عزت کو تسلیم کریں۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ مسلسل منفی خبروں، تلخ سیاسی مباحث اور سوشل میڈیا کی شدت نے ہماری اجتماعی نفسیات پر کیا اثر ڈالا ہے۔ ہر وقت غصہ، خوف، الزام اور مایوسی کی فضا انسان کو اندر سے تھکا دیتی ہے۔ اختلافات کو بڑھانے والی ہر بات چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے، جبکہ مثبت اور تعمیری بات اکثر خاموشی سے گزر جاتی ہے۔ ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، میڈیا، سیاسی پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا سب جگہ ایک نئی گفتگو کی ضرورت ہے۔ ایسی گفتگو جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے جوڑنے کا ذریعہ بنے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو نفرت کا ورثہ دیں گے یا امید کا، الزام کی زبان سکھائیں گے یا مکالمے کی، انتقام کا راستہ دکھائیں گے یا برداشت اور قانون کی پاسداری کا۔
پاکستان کی معاشی مشکلات بھی حقیقت ہیں اور ان سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، بجلی اور پٹرول کی قیمتیں، کاروباری مشکلات، محدود آمدنی اور روزمرہ اخراجات نے عام آدمی کو شدید دباؤ میں مبتلا کیا ہے۔ ایسے حالات میں صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ سب اچھا ہے۔ قوم کو مسائل کا سچ بھی بتانا ہوگا اور ان کے حل کی امید بھی دینا ہوگی۔ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معیشت کو مضبوط بنانے، روزگار پیدا کرنے، تعلیم و صحت بہتر بنانے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے مؤثر پالیسیاں بنائیں، جبکہ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کی پاسداری، محنت، دیانت اور ذمہ داری کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔ ترقی صرف حکومت کے اقدامات سے نہیں آتی؛ یہ ریاست، اداروں، کاروباری طبقے، تعلیمی نظام اور عوام کی مشترکہ کوشش سے پیدا ہوتی ہے۔
ہمیں اپنے نوجوانوں کو مایوسی سے نکال کر امکانات کی دنیا دکھانا ہوگی۔ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان آبادی ہے۔ اگر نوجوان کو معیاری تعلیم، ہنر، روزگار اور آگے بڑھنے کا راستہ مل جائے تو یہی نوجوان پاکستان کی معاشی اور سماجی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ ہمیں نوجوان کو صرف یہ نہیں بتانا کہ ملک میں مسائل کتنے ہیں، بلکہ یہ بھی بتانا ہوگا کہ وہ ان مسائل کے حل میں اپنا کردار کیسے ادا کرسکتا ہے۔ ایک طالب علم بہتر تعلیم حاصل کرکے، ایک استاد ایمانداری سے پڑھا کر، ایک ڈاکٹر مریض کی خدمت کرکے، ایک تاجر دیانت داری سے کاروبار کرکے، ایک صحافی ذمہ داری سے خبر دے کر اور ایک عام شہری قانون کی پاسداری کرکے پاکستان کی تعمیر میں حصہ ڈال سکتا ہے۔ قومیں صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بنتیں، چھوٹی چھوٹی ذمہ داریوں کو دیانت داری سے ادا کرنے والے لاکھوں افراد مل کر قوم بناتے ہیں۔
پاکستان کو آج ایک دوسرے کے خلاف صف بندی سے زیادہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ سیاست اپنی جگہ، اختلاف اپنی جگہ، اداروں کے معاملات اپنی جگہ، لیکن پاکستان سب سے اوپر ہے۔ ہمیں قومی مفاد کو ذاتی، جماعتی اور گروہی مفاد سے بلند رکھنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ کوئی حکومت ہمیشہ نہیں رہتی، کوئی سیاسی جماعت ہمیشہ اقتدار میں نہیں رہتی، حالات بدلتے رہتے ہیں، مگر ملک اور اس کے عوام مستقل ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمیں ایسی سیاست، ایسی صحافت اور ایسی سماجی گفتگو کی ضرورت ہے جس میں سخت اختلاف کے باوجود قومی وحدت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔
ہمیں یہ فیصلہ بھی کرنا ہوگا کہ ہم آنے والے کل کے بارے میں کیا سوچنا چاہتے ہیں۔ کیا ہم ہر صبح نئی مایوسی تلاش کریں گے یا نئی امید؟ کیا ہم اپنے بچوں کو بتائیں گے کہ پاکستان میں کچھ نہیں ہوسکتا، یا انہیں یہ سکھائیں گے کہ مشکلات کے باوجود محنت، علم اور کردار کے ذریعے بہت کچھ بدلا جاسکتا ہے؟ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم مایوسی کو حقیقت سمجھنے کی غلطی نہ کریں۔ آج حالات مشکل ہیں تو کل بہتر بھی ہوسکتے ہیں۔ آج اختلافات زیادہ ہیں تو کل مکالمہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ آج معیشت دباؤ میں ہے تو بہتر پالیسی، محنت اور مسلسل کوشش سے معاشی حالات بدلے جاسکتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو شکست دینے کے بجائے اپنے مسائل کو شکست دینے کا عزم کریں۔ سیاست میں اختلاف ہو مگر دشمنی نہ ہو، معاشرے میں تنوع ہو مگر نفرت نہ ہو، تنقید ہو مگر تضحیک نہ ہو، احتجاج ہو مگر امن کے دائرے میں ہو، آزادیِ اظہار ہو مگر ذمہ داری کے ساتھ ہو۔ ہم اپنے بچوں کے لیے ایسا پاکستان چھوڑیں جہاں اختلافِ رائے کے باوجود لوگ ایک دوسرے کی عزت کریں، جہاں قانون طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے برابر ہو، جہاں تعلیم اور روزگار امید کا ذریعہ بنیں، جہاں محنت کو عزت ملے اور جہاں کسی نوجوان کو اپنے مستقبل کے بارے میں ناامیدی نہ ہو۔ پاکستان کو آج نعروں سے زیادہ کردار، شور سے زیادہ شعور، نفرت سے زیادہ محبت اور مایوسی سے زیادہ امید کی ضرورت ہے۔ ہمیں یقین رکھنا ہوگا کہ یہ ملک صرف بحرانوں کی داستان نہیں؛ یہ امکانات کی سرزمین بھی ہے۔