ٹورنٹو کے “کاسا لوما “ محل کی عبرت انگیز داستان

آئیے آج آپ کو ٹورنٹو کے ایک محل نما گھر کی کہانی سناتا ہوں ۔اس گھر کے مالک نے اسے تین سو مستری اور مزدوروں کے مدد سے تین سال میں مکمل کیا مگر اس سوختہ بخت کو اس میں دس سال بھی رہنا نصیب نہ ہوسکا ۔یہ کہانی ہے ٹورنٹو میں موجود کاسا لوما (Casa Loma) محل کی ،جو آج کسی کی رہائش گاہ نہیں بلکہ ایک سیاحتی مقام بن چکاہے ۔لوگ اسے دور درازسے دیکھنے آتے ہیں اور اب اس عمارت کی خاموش دیواریں زبان حال سے کہتی ہیں

دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہے

بظاہر یہ پتھروں سے بنا ایک شاندار محل ہے، لیکن اس کی تاریخ جاننے کی کوشش کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اینٹوں اور پتھروں سے زیادہ دولت، عروج اور زوال کی ایک داستان محفوظ ہے۔دراصل کاسا لوما کے معنی ’’پہاڑی پر گھر‘‘ کے ہیں۔ تاریخی اوراق بتاتے ہیں کہ اسے کینیڈا کے معروف سرمایہ کار سر ہنری پیلاٹ نے اپنی رہائش کے لیے تعمیر کروایا تھا۔ ہنری پیلاٹ اپنے زمانے کے انتہائی کامیاب کاروباری شخص تھے۔ بجلی، ریلوے، زمین اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری نے انہیں بے پناہ دولت کا مالک بنا دیا تھا۔ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ وہ اکیس کینیڈین کمپنیوں کے چیئرمین تھے۔

ظاہر ہے جب دولت اور پیسہ آتا ہے تو پھر خواہشات بھی انگڑائیاں لینے لگتی ہیں۔ ہنری چاہتے تھے کہ ٹورنٹو میں ایک ایسا گھر تعمیر کریں جسے دیکھ کر لوگ حیران رہ جائیں۔ انہوں نے معروف معمار ای جے لینکس (E. J. Lennox) کو یہ خواب حقیقت میں بدلنے کی ذمہ داری سونپی۔اس گھر کی تعمیر 1911ء میں شروع ہوئی۔ تقریباً 300 مزدوروں نے مسلسل تین برس اس پر کام کیا اور 1914ء میں یہ محل تیار ہوگیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت اس کی تعمیر پر تقریباً 35 لاکھ ڈالر خرچ ہوئے تھے۔آج سے 112 سال قبل کسی شخص کا اپنے گھر پر اتنی خطیر رقم خرچ کرنا یہ اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے کہ ہنری پیلاٹ کے پاس کتنی دولت تھی ۔

مجھے اس محل کے کمروں، طویل راہداریوں اور بلند میناروں سے گزرنے کا موقع ملا ہے ۔میرے ذہن میں بار بار یہ خیال آتا تھا کہ ایک صدی پہلے یہاں زندگی کیسی ہوگی۔ یہ محض بڑا گھر نہیں تھا بلکہ اپنے دور کی جدید ترین سہولتوں سے آراستہ تھا۔ بجلی کا استعمال اس قدر غیر معمولی تھا کہ 1913ء میں یہاں تقریبا پانچ ہزار لائٹس نصب تھیں۔ گھر میں لفٹ بھی موجود تھی، جو اس زمانے میں زاتی رہائش گاہ کے لیے بہت بڑی بات تھی۔ محل میں خفیہ دروازے اور راستے بھی ہیں۔ سر ہنری کے مطالعے کے کمرے میں آتش دان کے دونوں طرف لکڑی کے پینلز کے پیچھے خفیہ دروازے موجود ہیں۔ ایک الگ شاہانہ کمرہ اس امید پر بنایا گیا تھا کہ کبھی برطانوی شاہی خاندان کے افراد یہاں مہمان بنیں گے۔

انسان بھی عجیب مخلوق ہے۔ جب حالات اس کے حق میں ہوں تو اسے محسوس ہوتا ہے شاید یہ عروج ہمیشہ قائم رہے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وقت کسی کے ساتھ دائمی معاہدہ نہیں کرتا۔جس شخص نے کروڑوں کے خواب دیکھے اور اپنے لیے قلعہ تعمیر کر لیا، چند ہی برس بعد حالات نے اس سے وہی قلعہ چھین لیا۔پہلی جنگِ عظیم، کاروباری قرضوں، معاشی مشکلات اور بجلی کے شعبے میں سرکاری ملکیت کے بڑھنے نے ہنری پیلاٹ کی مالی سلطنت کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کی وہ آمدنی بھی متاثر ہوئی جس پر ان کا کاروباری نظام بڑی حد تک کھڑا تھا۔ حالات اس نہج پر پہنچے کہ قیمتی سامان تک نیلام کرنا پڑا۔ ٹیکس کا بوجھ بھی بڑھتا چلا گیا اور بالآخر 1924ء میں ہنری پیلاٹ اور ان کے خاندان کو کاسا لوما چھوڑنا پڑا۔

یہ بات مجھے سب سے زیادہ حیران کرتی ہے۔جس عمارت کی تعمیر پر تین سال لگے، جسے سجانے میں دولت پانی کی طرح بہائی گئی، جس کے کمروں، باغات اور میناروں کو شاید آنے والی نسلوں کے لیے اپنی شان و شوکت کی علامت سمجھا گیا ہوگا، اس کے اصل مالک کو وہاں صرف تقریبا دس برس رہنا نصیب ہوا۔ بعد میں اسے ہوٹل بنانے کی کوشش ہوئی۔ وہ تجربہ بھی زیادہ عرصہ نہ چل سکا۔ عمارت خالی پڑی رہی اور بالآخر 1933ء میں واجب الادا ٹیکسوں کے باعث سٹی آف ٹورنٹو نے اسے اپنی ملکیت میں لے لیا۔ ایک مرحلے پر تو اسے گرانے تک پر غور کیا گیا، تاہم ایسا نہ ہوا اور یہ تاریخی عمارت بچ گئی۔ 1937ء سے اسے سیاحتی مقام کے طور پر استعمال کیا جانے لگا اور آج بھی اس کی ملکیت سٹی آف ٹورنٹو کے پاس ہے۔

آج دنیا بھر سے لوگ ٹکٹ خرید کر اس محل کو دیکھنے آتے ہیں۔ وہ سر ہنری کا کمرہ دیکھتے ہیں، ان کی اہلیہ کا کمرہ دیکھتے ہیں، ان کے اصطبل، باغات، خفیہ راستے اور وہ شاہانہ ہال دیکھتے ہیں جہاں کبھی کینیڈا کے امیر اور بااثر لوگ جمع ہوتے تھے۔ مگر اس سارے منظر میں ایک شخص موجود نہیں، وہ شخص جس نے یہ سب کچھ اپنے اور اپنی نسلوں کیلئے بنایا تھا۔

میں کاسا لوما سے باہر نکلا تو ایک خیال ساتھ لے کر نکلا۔انسان زندگی بھر کہتا رہتا ہے میرا گھر، میری زمین، میری دولت، میرا کاروبار اور میری عمارت۔ پھر ایک دن وقت آہستہ سے لفظ ’’میرا‘‘ مٹا دیتا ہے۔ عمارت وہیں رہتی ہے، زمین وہیں رہتی ہے، دروازے بھی وہیں ہوتے ہیں، صرف مالک بدل جاتے ہیں۔سر ہنری پیلاٹ نے شاید کاسا لوما کو اپنی دولت اور کامیابی کی یادگار سمجھ کر بنایا ہوگا۔ آج وہی محل ان کی دولت سے کہیں زیادہ دنیا کی بے ثباتی کی یادگار محسوس ہوتا ہے۔
شاید بڑے محلات ہمیں یہی سبق دینے کے لیے باقی رہ جاتے ہیں کہ انسان کتنا ہی بڑا گھر کیوں نہ بنا لے، اس دنیا میں اس کا قیام بہرحال مختصر ہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں