لانگ مارچ اور دھرنوں کی صورت میں اسلام آباد کے شہریوں پر جو عذاب اترتا ہے ، اسے میں بھگت چکا ہوں اور اس کے آزار سے خوب واقف ہوں ۔ لیکن اس کے باوجود حافظ نعیم الرحمن کے قافلے کی آمد سے پریشان نہیں ہوں۔
حافظ نعیم الرحمن ایک عوامی ایشو پر احتجاج کرنے آ رہے ہیں یہ ان کا حق ہے۔ حق ہی نہیں وہ اس ساری قوم کے گونگے اور بہرے پن کا کفارا ادا کر رہے ہیں ۔ یہ وہ احتجاج تھا جو ان کو کرنا چاہیے تھا جنہیں اپنی عوامی مقبولیت پر بڑا ناز تھا۔ یہ قرض مگر حافظ نعیم الرحمن اتار رہے ہیں حالانکہ یہ ان پر واجب بھی نہیں تھا۔۔
حافظ نعیم الرحمن کسی فتنہ گری کی خواہش لے کر نہیں آ رہے۔ ان کا مقصد ہیجان ، انتشار یا تخریب نہیں ہے۔ پچھلی دفعہ بھی وہ احتجاج کے لیے اسلام آباد آئے تو کسی ایک خاص مقام پر دھرنے پر اصرار نہیں کیا ۔ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے متبادل مقام پر بیٹھ گئے۔ ناقدین سے باتیں بھی سنیں لیکن ذمہ داری سے کو تھام لیا اور کسی اشتعال کی جانب مائل نہیں ہوئے۔ ضروری نہیں کہ اس بار بھی ایسا ہو لیکن یہ ضرور ہے ان کا مقصد ہیجان ، تخضرب ، انتشار یا فتنہ انگیزی نہیں ، صرف پٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے۔ وہ بند گلی کے مسافر نہیں ہیں ۔ پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کرنے آ رہے ہیں اس کی آڑ میں سیاسی کلٹ کی فتنہ گری کو دودھ پلانے نہیں آ رہے۔ وہ نامبارک کلٹ نہیں کہ ان سے بات ہی نہ کی جا سکے۔ شائستہ اور معقول آدمی ہیں ۔
حافظ نعیم الرحمن اقتدار کا گندا اور غلیظ کھیل کھیلنے نہیں آ رہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ سر شام وہ دھرنے میں للکارتے ہوں اور راتوں کو جا کر کسی سے خفیہ ملاقاتیں فرما کر گالیاں کھا کر واپس آ جاتے ہوں۔ ان کا احتجاج بھی سب کے سامنے ہےا ور ان کا مذاکراتی عمل بھی سب کے سامنے ہے۔
وہ کسی خفیہ وعدے کی امید پر نہیں آ رہے کہ بعد میں ان آنیوں اور جانیوں پرسوالات اٹھیں تو تضادات کےے دفتر کھل جائں۔ وہ سیدھے اور صاف مطالبے کو لے کر آ رہے ہیں کہ پٹرولیم لیوی کم کرو۔
انہوں نے اپنے کارکنان میں بے لگام اشتعال کی وحشت نہیں بانٹی ۔ وہ کسی بپھرے اور ناتراشیدہ کلٹ کے دیوتا نہیں ہیں ، انہوں نے کسی کے مذہبی جذبات کا استحصال نہیں کیا۔ وہ کسی کی سادہ لوحی کا استحصال کر کے ان کے شعور پر پٹی باندھ کر نہیں لا رہے کہ حق صرف میری آستین کے ساتھ بندھا ہے اور تم آنکھیں بند کر کے بس قائد محترم کی اطاعت کرو بلکہ وہ شعوری ، منطقی اور جائز مطالبے کے ساتھ آ رہے ہیں جہاں کامیابی اور ناکامی کو قائد محترم کی مبینہ بصیرت کی بھول بھلیوں میں تلاش نہیں کیا جائے گا بلکہ دو جمع دو کی طرح میزانیہ سامنے رکھا ہو گا کہ مطالبہ کیا تھا اور وہ تسلیم ہوا یا نہیں ہوا۔
جماعت اسلامی کا کارکن پاکستان کا منظم ترین سیاسی کارکن ہے۔ اس سے اس بلوے ، فتنے اور فساد کا خطرہ نہیں ہے جو کچھ دوسروں کا انتخابی نشان بن چکا ہے۔ یہ منظم ، مرتب اور معقول لوگ ہیں ۔ فتنہ گر نہیں ہیں ۔
جماعت اسلامی کے بارے میں یہ خیال کرنا بھی ممکن نہیں کہ یہ پاکستان کے خلاف کسی اندھے کھیل کا حصہ بن کر آ رہی ہے۔ احتجاج اور دھرنوں کی اگر چہ ایک قیمت ہوتی ہے اور پاکستان اس وقت کسی داخلی ہیجان کا متحمل نہیں ہو سکتا لیکن سچ تو یہ بھی ہے کہ پاستان اس پٹرولیمم لیوی کا بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔ جماعت اسلامی سے اتفاق کرے یا کوئی اختلاف کرے یہ طے ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کے خلافف کسی اندھے کھییل کا حصہ نہیں ہو سکتی۔ یہ کوئی حسن ظن نہیں ہے ، یہ جماعت اسلامی کا کردار ہے جو ہمارے سامنے ہے۔
حافظ نعیم الرحمن کے ہاں کوئی کروفر یا متعفن قسم کا تکبر بھی نہیں ہے۔ ان کے لیے ٹرین کا کوئی خصوصی بلٹ پروف حصہ بھی تیار نہیں کرایا گیا کہ قائد انقلاب پوشاکیں پہن کر اور خوشبوئیں لگا کر دن میں چار بار جلوہ افروز ہوتے رہیں اور معتقدین ان کے استعمال شدہ ٹشو پیپر انعام سمجھ کر لے جایا کریں ۔ بلکہ وہ ٹرین کے عام سے ڈبے میں اپنے کارکنان کے ساتھ بیٹھے ہیں اور پسینہ پونچھ رہے ہیں۔
باقی فتنہ گروں کا احتجاج جانے اور حکومت جانے ، لیکن جماعت اسلامی کا احتجاج ایک مختلف معاملہ ہے۔ یہ فتنہ گری نہیں ہے ۔ اس لیے حکومت کو چاہیے ان کی بات توجہ سے سنے اور جلد از جلد کسی قابل عمل حل تک پہنچے۔ ان کے اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی پٹرولیم لیوی کا معاملہ کسی صورت حل کر دیا جائے۔ مثالی حل ممکن نہیں تو زمینی حقیقتوں کے قریب رہ کر ایک قابل عمل اور معتبر امکانی حل تلاش کر لیا جائے ۔
ا