افغانستان میں غذائی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے، جہاں تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ افراد کو خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے، جبکہ ان میں سے 34 لاکھ افراد ہنگامی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ موسمِ سرما شروع ہونے کے بعد بھوک سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق ملک میں خوراک کی دستیابی کے باوجود لاکھوں خاندان اسے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
اقوام متحدہ کی 20 اکتوبر کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، انسانی امداد کی رابطہ کاری کے ادارے اوچا کی ترجمان اولگا چیریوکو نے کابل میں صحافیوں کو بتایا کہ افغانستان میں بھوک کی بنیادی وجہ صرف خوراک کی قلت نہیں بلکہ غربت، بے روزگاری اور آمدنی کے محدود مواقع بھی ہیں۔ انہوں نے جنوبی اور شمال مشرقی افغانستان کے حالیہ دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض علاقوں میں فصلیں بہتر ہوئی ہیں اور بازاروں میں کھانے پینے کی اشیا بھی موجود ہیں، لیکن بڑی تعداد میں خاندان انہیں خریدنے کے قابل نہیں۔
اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ عالمی غذائی تحفظ کی نگرانی کرنے والے ادارے آئی پی سی کے تازہ جائزے کے مطابق، اگست سے اکتوبر کے دوران افغانستان میں شدید غذائی قلت کی صورتحال تشویش ناک سطح پر پہنچ چکی ہے۔ خاص طور پر بچے اور کم آمدنی والے خاندان اس بحران سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق لاکھوں والدین اپنے بچوں کو مناسب اور غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم نہیں کر سکتے، جس کے باعث بچوں کی صحت اور نشوونما کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
افغانستان میں خوراک کے بحران کی کئی وجوہات ہیں، جن میں چار دہائیوں سے جاری تنازعات کے اثرات، معاشی مشکلات، خشک سالی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے مسائل شامل ہیں۔ ان حالات نے پہلے ہی کمزور خاندانوں کی مالی استطاعت مزید محدود کر دی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، بہت سے خاندانوں کے پاس کسی نئی معاشی یا موسمی مشکل کا مقابلہ کرنے کے لیے نہ بچت موجود ہے اور نہ ہی آمدنی کا کوئی مستحکم ذریعہ۔ نتیجتاً خوراک بازاروں میں دستیاب ہونے کے باوجود لاکھوں افراد روزانہ مناسب کھانا حاصل کرنے سے محروم ہیں۔
اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے افغانستان کے لیے فوری اور مسلسل انسانی امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ ادارے کی ترجمان اولگا چیریوکو نے خبردار کیا کہ موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے اور غذائی بحران سے متاثرہ افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ امدادی اقدامات اس وقت ضروری ہیں جب خاندانوں کے پاس مشکلات کا مقابلہ کرنے کے کچھ وسائل باقی ہیں، کیونکہ مزید تاخیر لاکھوں افراد، خصوصاً بچوں، کے لیے حالات مزید سنگین بنا سکتی ہے۔