پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مکہ دفاعی معاہدے کی نئی تفصیلات سامنے آگئیں، پہلے 10 سال علیحدگی کی اجازت نہیں ہوگی

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی نئی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جن کے مطابق تینوں ممالک ابتدائی 10 سال تک اس معاہدے سے علیحدہ نہیں ہو سکیں گے۔ اگست 2026 میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ترکیہ نے معاہدے کی باضابطہ منظوری کے لیے اسے پارلیمان میں پیش کر دیا ہے، جبکہ پاکستان اس کی توثیق پہلے ہی کر چکا ہے۔ معاہدہ توثیقی دستاویزات ریاض میں قائم سیکریٹریٹ میں جمع کرانے کے بعد نافذ ہوگا اور غیر معینہ مدت تک برقرار رہے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، معاہدے میں اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیا گیا ہے، جو مسلح حملے کی صورت میں انفرادی اور اجتماعی دفاع کا حق فراہم کرتا ہے۔ معاہدے کی شقیں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتی ہیں۔ تینوں ممالک نے ایک دوسرے کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کو لاحق خطرات کے مقابلے کے لیے تمام ضروری ذرائع استعمال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس تعاون میں دفاعی صنعت، فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس معلومات، رسد اور د-ہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات بھی شامل ہیں۔

ترکیہ میں معاہدے کی توثیق کے لیے پارلیمانی منظوری ضروری ہے۔ ترک پارلیمان کے اسپیکر نعمان قرتلمش کی جانب سے معاہدہ خارجہ امور کی کمیٹی کو بھجوائے جانے کا امکان ہے، جہاں جمعے سے اس پر بحث شروع ہو سکتی ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان کے مشیرِ اطلاعات برہان الدین دوران نے اس پیش رفت کو تینوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔ تاہم ترک حکام کے مطابق، انقرہ کی عملی معاونت فی الحال فوجی سازوسامان، ہتھیاروں کے نظام اور انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی تک محدود رہ سکتی ہے۔ ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان بھی واضح کر چکے ہیں کہ یہ جارحانہ نہیں بلکہ دفاعی معاہدہ ہے اور ترکیہ کسی دوسرے ملک میں حملے کرنے کے لیے اپنے فوجی نہیں بھیجے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کو یمن کے حو-ثیوں کے بڑھتے حملوں کا سامنا ہے۔ ترکیہ ان حملوں کی مذمت کر چکا ہے اور سعودی عرب کی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے تکنیکی اور فوجی معاونت پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔ انقرہ نے بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کے ساتھ تعاون پر بھی اتفاق کیا ہے۔ دوسری جانب مصر مکہ دفاعی اتحاد کا رکن نہیں ہے، تاہم مصری پارلیمان 26 اکتوبر کو سعودی عرب کے لیے ممکنہ فوجی معاونت کی اجازت دینے کے معاملے پر غور کرے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں