جنوبی بحیرہ چین میں امریکی جنگی جہاز کی آمد پر چین کا بحری فوج تعینات کرنے کا اعلان

جنوبی بحیرہ چین کے متنازع سمندری علاقے میں امریکی جنگی جہاز کی آمد پر چین نے اپنی بحری فوج کو نگرانی کے لیے روانہ کر دیا ہے۔ چینی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی جنگی جہاز بغیر اجازت اس کے زیرِ دعویٰ سمندری علاقے میں داخل ہوا، جس سے علاقائی سلامتی اور استحکام کو خطرہ لاحق ہوا ہے۔ دوسری جانب فلپائن نے چین کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں قانونی آمدورفت کے لیے کسی ملک سے اجازت لینا ضروری نہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، چین کی فوجی کمان نے منگل 20 اکتوبر کو بتایا کہ امریکی بحریہ کا جنگی جہاز یو ایس ایس چارلسٹن علی الصبح متنازع سبینا شول کے قریب پہنچا۔ چینی فوج کا کہنا ہے کہ امریکی جہاز نے بیجنگ کی منظوری کے بغیر ان پانیوں میں داخل ہو کر چین کے حقوق کی خلاف ورزی کی۔ چینی بحریہ نے جہاز کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے اپنے دستے روانہ کیے اور امریکہ سے ایسی سرگرمیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ امریکی بحریہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

جنوبی بحیرہ چین دنیا کی اہم سمندری تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں چین تقریباً پورے سمندری علاقے پر اپنا حق ظاہر کرتا ہے۔ تاہم فلپائن، ویتنام، ملائیشیا، برونائی اور تائیوان بھی اس کے مختلف حصوں پر دعوے رکھتے ہیں۔ سبینا شول کے معاملے پر چین اور فلپائن کے درمیان پہلے ہی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ گزشتہ ماہ اسی علاقے کے قریب چینی کوسٹ گارڈ کے جہاز اور فلپائن کی ایک کشتی کے درمیان تصادم بھی ہوا تھا، جس کی ذمہ داری دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر عائد کی تھی۔

اسی دوران تائیوان نے بھی اپنے زیرِ انتظام پراٹاس جزائر کے قریب چینی کوسٹ گارڈ کے جہاز کی آمد پر احتجاج کیا ہے۔ تائیوان کے حکام کے مطابق، چینی جہاز محدود سمندری حدود میں داخل ہوا، جس کے بعد تائیوان نے اپنا گشتی جہاز روانہ کیا۔ دونوں جانب سے ریڈیو پیغامات کے ذریعے ایک دوسرے کو خبردار کیا گیا۔ چینی اہلکاروں نے تائیوان کی ریاستی حیثیت کو مسترد کیا، جبکہ تائیوان کے اہلکاروں نے اپنی خودمختاری کا مؤقف دہرایا۔

چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ تائیوان کی حکومت خود کو ایک خودمختار ریاست سمجھتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں چین نے تائیوان کے اردگرد بحری سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے، جس پر امریکہ اور دیگر مغربی ممالک تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔ جنوبی بحیرہ چین میں امریکی جنگی جہاز کی نگرانی اور تائیوان کے قریب چینی کوسٹ گارڈ کی سرگرمیوں نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے، جہاں سمندری حدود اور جہاز رانی کے حقوق پر اختلافات پہلے ہی موجود ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں