چین کے خودمختار علاقے تبت میں 7 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد جاں بحق اور 65 زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ 300 سے زائد مکانات منہدم ہونے کی اطلاعات ہیں۔ زلزلہ جمعرات 22 اکتوبر کی رات آیا، جس کے بعد متاثرہ علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ اپنے گھروں سے نکل کر کھلے مقامات کی طرف بھاگنے لگے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے جانی و مالی نقصانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے متاثرین کی تلاش، امداد اور بحالی کی کارروائیاں تیز کریں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، امریکی جیولوجیکل سروے نے زلزلے کی شدت 7.0 ریکارڈ کی، جس کا مرکز تبت کے شہر ناگچو سے تقریباً 190 کلومیٹر مشرق اور شمال مشرق کی جانب ایک پہاڑی علاقے میں تھا۔ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 33 منٹ پر آیا اور اس کی گہرائی تقریباً 10 کلومیٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز تبت کے علاقائی دارالحکومت لہاسا سے تقریباً 390 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع تھا۔ کم گہرائی پر آنے والے زلزلے کے باعث متاثرہ علاقوں میں عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا اور بعض مقامات پر بجلی اور مواصلاتی رابطے بھی متاثر ہوئے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق، زلزلے کے دوران رہائشی عمارتیں لرزنے لگیں، دکانوں میں رکھا سامان شیلفوں سے گر گیا اور ریستورانوں میں موجود لوگ خوف کے باعث باہر نکل آئے۔ متاثرہ علاقے کی ایک خاتون نے بتایا کہ ان کا خاندان سونے کی تیاری کر رہا تھا کہ اچانک گھر لرزنے لگا اور سامان گرنے لگا، جس کے بعد وہ کپڑے تبدیل کیے بغیر باہر نکل گئے۔ خاتون کے مطابق خوف کی شدت سے ان کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور وہ گھر سے نکلنے کے بعد رونے لگیں۔ متعدد شہریوں نے دوبارہ گھروں میں جانے سے گریز کیا اور رات سڑکوں کے کنارے لگائے گئے خیموں یا اپنی گاڑیوں میں گزاری۔
چینی صدر شی جن پنگ نے زلزلے کے بعد فوری اور بھرپور امدادی کارروائیوں کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں اور جانی نقصان کم سے کم رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے۔ سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق صدر نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان، عارضی رہائش اور ریسکیو آلات فوری پہنچانے کی ہدایت بھی کی۔ زلزلے سے متاثرہ علاقہ سطح سمندر سے کافی بلندی پر واقع ہے جہاں سرد موسم اور دشوار گزار پہاڑی راستے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ ریسکیو اہلکار رات کے اندھیرے میں ٹارچوں کی مدد سے منہدم عمارتوں کا ملبہ ہٹا کر ممکنہ طور پر پھنسے افراد کو تلاش کر رہے ہیں۔
چینی سرکاری ٹیلی ویژن سی سی ٹی وی کے مطابق، متاثرہ باچنگ کاؤنٹی میں امدادی کارروائیوں کے لیے 1600 سے زائد افراد متحرک کیے گئے ہیں۔ فائر اینڈ ریسکیو بریگیڈ نے 25 گاڑیوں اور 110 اہلکاروں کو متاثرہ علاقوں میں بھیجا، جبکہ مسلح پولیس کے 225 اہلکار اور 18 گاڑیاں بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔ جمعہ کی صبح تک متاثرہ علاقوں میں ایک ہزار عارضی رہائشی یونٹس، 3239 خیمے، چار جنریٹرز اور ایک ہزار ٹارچیں پہنچائی جا چکی تھیں۔ حکام کے مطابق زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے ساتھ متاثرہ آبادی کے لیے عارضی رہائش اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔