امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اپنے دوسرے دورِ اقتدار کے دوران تین لاکھ سے زائد غیر ملکی شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے منگل 20 اکتوبر کو بتایا کہ جنوری 2025 میں ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ویزوں کی منسوخی کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ اقدام امریکی حکومت کی سخت امیگریشن پالیسی کا حصہ ہے، جس کے تحت غیر ملکی شہریوں کی نگرانی اور ویزا قوانین پر عمل درآمد مزید سخت کیا جا رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ نے رواں سال 10 اگست کو بتایا تھا کہ ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت میں ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں، تاہم اب یہ تعداد تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس طرح تقریباً دو ماہ کے دوران مزید ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد ویزے منسوخ ہوئے ہیں۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے دعویٰ کیا کہ موجودہ انتظامیہ نے امریکی تاریخ کی کسی بھی سابقہ حکومت کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ویزے منسوخ کیے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، ان اقدامات کا مقصد ملکی سلامتی کو بہتر بنانا اور امریکی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے غیر ملکی شہریوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔ ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ حکومت ایسے ویزا رکھنے والے افراد کے لیے کوئی رعایت نہیں برتے گی جو قانون توڑتے ہیں، دھوکا دہی میں ملوث ہوتے ہیں یا قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ویزا درخواست گزاروں اور امریکہ میں مقیم غیر ملکیوں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی جانچ بھی سخت کر دی ہے۔
تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان اقدامات پر شدید تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امیگریشن کے خلاف کارروائیوں سے بعض افراد کے قانونی حقوق اور اظہارِ رائے کی آزادی متاثر ہو رہی ہے۔ خاص طور پر غ-زہ پر اس-رائیلی حملوں کے خلاف مظاہروں میں حصہ لینے والے غیر ملکی طلبہ اور شہریوں کے ویزوں کی منسوخی پر اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ بعض غیر ملکی شہریوں کو سوشل میڈیا پر تبصروں کی بنیاد پر بھی ویزا منسوخی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حقوق کی تنظیموں کے مطابق، قومی سلامتی کے نام پر حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو بھی نشانہ بنائے جانے کا خدشہ موجود ہے۔
صدر ٹرمپ نے 2024 کی انتخابی مہم کے دوران غیر قانونی امیگریشن روکنے کو اپنی اہم ترجیحات میں شامل کیا تھا، تاہم ان کے دوسرے دورِ حکومت میں قانونی طریقوں سے امریکہ آنے والے افراد کے لیے بھی شرائط سخت کی گئی ہیں۔ بعض ملازمتی ویزوں کی فیسوں میں اضافے اور درخواست گزاروں کی مزید جانچ جیسے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ پالیسیاں ملک کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں انہیں غیر ملکی شہریوں اور تارکینِ وطن کے لیے بڑھتی ہوئی مشکلات قرار دے رہی ہیں۔