مائیکروسافٹ کا ڈاکٹر کی طرح مرحلہ وار بیماری کی تشخیص کرنے والا نیا اے آئی نظام تیار، تحقیق میں عام معالجین سے دوگنا زیادہ درست نتائج

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ کے محققین نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک نیا نظام تیار کیا ہے جو ڈاکٹروں کی طرح مریض سے مرحلہ وار سوالات پوچھنے، ضروری طبی ٹیسٹ تجویز کرنے اور ان کے نتائج کی بنیاد پر بیماری کی تشخیص کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سائنسی جریدے سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، اس نظام نے پیچیدہ طبی مسائل کی تشخیص میں تحقیق میں شامل عام معالجین کے مقابلے میں دوگنا سے زیادہ درست نتائج دیے۔ تاہم یہ کامیابی مخصوص تحقیقی تجربات میں سامنے آئی ہے اور اسے عام ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے کی منظوری نہیں دی گئی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، مائیکروسافٹ کے محققین نے اس نظام میں ایک خصوصی انتظامی طریقہ کار استعمال کیا ہے جسے ’آرکیسٹریٹر‘ کہا جاتا ہے۔ یہ نظام مصنوعی ذہانت کی مدد سے مختلف طبی ماہرین کی ایک فرضی ٹیم بناتا ہے، جو مریض کی علامات اور ممکنہ بیماریوں کا مشترکہ جائزہ لیتی ہے۔ روایتی طبی اے آئی ماڈلز عموماً مریض کی علامات، لیبارٹری رپورٹس اور طبی تصاویر جیسی تمام معلومات ایک ساتھ حاصل کرکے تشخیص پیش کرتے ہیں، جبکہ نیا نظام پہلے مریض کی طبی تاریخ سے متعلق سوالات کا انتخاب کرتا ہے، پھر جسمانی معائنے کی اہم معلومات کا جائزہ لیتا ہے اور ضرورت کے مطابق ٹیسٹ تجویز کرتا ہے۔

محققین کے مطابق، اس طریقے کی خاص بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت ہر نئی معلومات کے بعد اپنی ابتدائی تشخیص پر دوبارہ غور کرتی ہے۔ اگر کسی ٹیسٹ کا نتیجہ پہلے سے موجود اندازے کی تائید نہ کرے تو نظام دوسرے ممکنہ اسباب کا جائزہ لیتا ہے اور مزید ٹیسٹ تجویز کر سکتا ہے۔ تحقیق کے دوران اس نظام کو 300 سے زیادہ ایسے پیچیدہ اور غیر معمولی طبی کیسز دیے گئے جن کی تشخیص نسبتاً مشکل تھی۔ ان تجربات میں نظام نے طبی کتابوں اور انٹرنیٹ کی مدد سے تشخیص کرنے والے عام معالجین کے مقابلے میں دوگنا سے زیادہ درست کارکردگی دکھائی۔ ایمرجنسی شعبوں میں داخل مریضوں کے ریکارڈ سے تیار کردہ طبی صورتِ حال پر مبنی تجربات میں بھی اس نے بہتر نتائج دیے۔

مائیکروسافٹ اے آئی کے شعبۂ صحت کے نائب صدر ڈاکٹر ڈومینک کنگ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے موجودہ نظام طبی امتحانات کے کثیرالانتخابی سوالات حل کرنے میں بہت اچھے ہو چکے ہیں، لیکن حقیقی زندگی میں مریض اپنی بیماری کی تمام تفصیلات پہلے سے ترتیب دے کر ڈاکٹر کے سامنے پیش نہیں کرتے۔ ان کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ نظام خود یہ طے کرے کہ مریض سے کیا پوچھنا ہے، کون سا ٹیسٹ ضروری ہے اور مختلف نتائج کو ملا کر درست تشخیص تک کیسے پہنچنا ہے۔ مائیکروسافٹ اے آئی ہیلتھ کے سربراہ ہرشا نوری کے مطابق، تحقیق میں صرف تشخیص کی درستگی نہیں بلکہ ٹیسٹوں کے انتخاب میں احتیاط اور تشخیصی عمل پر آنے والی لاگت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ نئے نظام کے ذریعے تشخیص کے عمل کی لاگت بھی عام معالجین کے مقابلے میں کم رہی۔

مائیکروسافٹ اب اس ٹیکنالوجی کی مزید جانچ کے لیے امریکی شہر بوسٹن کے بیتھ اس-رائیل ڈیکونس میڈیکل سینٹر کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ اگلے مرحلے میں دیکھا جائے گا کہ یہ نظام ہسپتال کے ایمرجنسی شعبے میں انتظار کرنے والے مریضوں کی طبی حالت کا ابتدائی جائزہ لینے اور علاج کی فوری ضرورت رکھنے والے افراد کی نشاندہی میں کس حد تک مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا مقصد بیماریوں کی تشخیص کو زیادہ درست اور مؤثر بنانا ہے، تاہم حقیقی مریضوں کے علاج میں اس کی افادیت، حفاظت اور قابلِ اعتماد کارکردگی ثابت کرنے کے لیے مزید عملی آزمائشیں ضروری ہوں گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں