رمضان المبارک میں ہماری روزمرہ کی سرگرمیاں عام دنوں کے مقابلے میں کافی مختلف ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے اکثر لوگ نیند کی کمی کی شکایت کرتے ہیں۔ لیکن جسمانی اور ذہنی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے مناسب نیند لینا انتہائی ضروری ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تراویح، سحری اور روزمرہ کی مصروفیات کے ساتھ نیند کا تسلسل کیسے برقرار رکھا جائے؟
نیند کے لیے مستقل معمول بنانا ضروری ہے۔ عام دنوں میں 8 گھنٹے کی نیند مثالی سمجھی جاتی ہے، لیکن اگر یہ ممکن نہ ہو تو وقفوں میں مکمل کی جا سکتی ہے۔ اس دوران یہ یقینی بنائیں کہ آپ کے سونے کا ماحول پرسکون ہو، کمرے میں اندھیرا ہو اور اگر ضرورت محسوس ہو تو آئی ماسک کا استعمال کریں تاکہ نیند کا معیار بہتر ہو سکے۔
رمضان میں نیند کی کمی کو پورا کرنے کے لیے دوپہر میں مختصر قیلولہ بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ قیلولے کا وقت 20 سے 30 منٹ کے درمیان ہونا چاہیے، کیونکہ زیادہ دیر سونے سے تھکن اور سستی محسوس ہو سکتی ہے۔
رمضان میں افطار اور سحری کے درمیان وافر مقدار میں پانی پینا ضروری ہے، کیونکہ پانی کی کمی نیند کے معیار کو متاثر کر سکتی ہے۔
سونے سے کچھ دیر قبل کیفین اور زیادہ چینی والے مشروبات سے گریز کریں، کیونکہ یہ نیند میں خلل ڈال سکتے ہیں اور آپ کو دیر تک جاگتے رہنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
اپنی نیند کے معمولات کو بہتر بنانے کے لیے دن کے وقت قدرتی دھوپ میں بیٹھیں تاکہ جسم کی اندرونی گھڑی متوازن رہے، جبکہ رات کے وقت روشنی کو مدھم کر کے نیند کے لیے بہتر ماحول بنایا جا سکتا ہے۔
سحری اور افطار کے دوران غذائیت سے بھرپور متوازن خوراک لینا ضروری ہے۔ اس میں پروٹین، پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس، اناج، سبزیاں اور صحت مند چکنائی شامل ہونی چاہیے، تاکہ دن بھر توانائی برقرار رہے اور نیند کا معیار بھی بہتر ہو۔
اگر ان تدابیر کو اپنایا جائے تو رمضان کے دوران نیند کی کمی کو کافی حد تک پورا کیا جا سکتا ہے اور دن بھر تازگی اور توانائی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔