پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں، جن کے تحت بڑے پیمانے پر اسکریننگ، تشخیصی کٹس کی فراہمی اور مفت یا کم لاگت علاج کو وسعت دینے کا منصوبہ شامل ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان کا ہدف ہے کہ 2027 تک 12 سال سے زائد عمر کی نصف اہل آبادی، یعنی تقریباً 8 کروڑ 25 لاکھ افراد، کی ٹیسٹنگ کی جائے اور 50 لاکھ مریضوں کا علاج کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کا پھیلاؤ دنیا کے بلند ترین تناسب میں شمار ہوتا ہے۔ اس بیماری کی بڑی وجوہات میں غیر محفوظ انجیکشن، غیر معیاری انتقالِ خون، غیر جراثیم سے پاک آلاتِ جراحی، غیر محفوظ دندان سازی اور حجامت کے دوران استعمال ہونے والے آلودہ آلات شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 98 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
تحقیقی جائزوں کے مطابق اصل مسئلہ صرف ادویات کی دستیابی نہیں بلکہ مریضوں تک بروقت تشخیص اور مکمل علاج پہنچانا ہے۔ پاکستان کو 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے ہدف کے لیے ہر سال کروڑوں افراد کی اسکریننگ، لاکھوں مریضوں کا علاج اور نئے انفیکشنز کی روک تھام یقینی بنانا ہوگی۔
وفاقی حکومت نے 2024 میں ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے عزم کی تجدید کی تھی، جس کے تحت پہلے مرحلے میں زیادہ متاثرہ اضلاع پر توجہ دی جا رہی ہے۔ منصوبے کا مقصد 2027 تک نصف آبادی اور 2030 تک باقی اہل آبادی کو ٹیسٹ اور علاج کے دائرے میں لانا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسکریننگ، علاج، محفوظ انتقالِ خون، انجیکشن سیفٹی اور عوامی آگاہی کو ایک ساتھ مؤثر انداز میں نافذ نہ کیا گیا تو بیماری کے خاتمے کا ہدف مشکل ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ مریضوں کو صرف ٹیسٹ تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ مثبت کیسز کو علاج مکمل کروانے اور بعد از علاج تصدیقی ٹیسٹ تک پہنچایا جائے