کیوبا نے اعلان کیا ہے کہ چین کی جانب سے بھیجے گئے تقریباً 60 ہزار ٹن چاول کی امدادی کھیپ کا پہلا حصہ موصول ہو گیا ہے۔
کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ اس امداد میں سے 15 ہزار ٹن چاول کی پہلی کھیپ ایک روز قبل ہوانا کی بندرگاہ پر پہنچی۔ انہوں نے چین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ موجودہ حالات میں یہ تعاون انتہائی اہم ہے۔
صدر کے مطابق کیوبا کو اس وقت سخت معاشی دباؤ اور بنیادی ضروریات کی قلت کا سامنا ہے، جس کی بڑی وجہ امریکہ کی جانب سے سخت پابندیاں اور تجارتی رکاوٹیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پابندیوں نے ملک میں انسانی حالات کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، امریکہ نے رواں سال کے آغاز سے کیوبا پر پابندیوں میں اضافہ کیا ہے اور توانائی کی ترسیل پر بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جس کے باعث جزیرے کو ایندھن کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
توانائی کی کمی کے باعث ملک میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے، اور کئی علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ اور مکمل بلیک آؤٹس کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ، صحت اور دیگر بنیادی خدمات بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
کیوبا کی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک پہلے ہی اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا کرتا ہے، لیکن حالیہ پابندیوں کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف محدود مقدار میں روس سے تیل کی ترسیل ممکن ہو سکی ہے۔
امریکہ کی جانب سے کیوبا پر دباؤ کی پالیسی کو بعض حلقے ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ کی حکمت عملی قرار دیتے ہیں، جس کا مقصد حکومت پر سیاسی تبدیلی کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔
صدر دیاز کانیل نے الزام عائد کیا کہ یہ پالیسی دراصل کیوبا کے خلاف معاشی دباؤ بڑھانے اور اسے کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ ملک اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے تاکہ بیرونی مداخلت کے لیے راستہ ہموار کیا جا سکے۔
دوسری جانب امریکہ کا مؤقف ہے کہ پابندیاں کیوبا کی حکومت کی پالیسیوں اور انسانی حقوق کی صورتحال کے ردعمل میں ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کیوبا نے چین کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ چین نے نہ صرف خوراک کی امداد فراہم کی ہے بلکہ توانائی کے شعبے میں بھی مدد کے لیے سولر پینلز وغیرہ دیے ہیں تاکہ جزیرے کی کمزور ہوتی بجلی کے نظام کو سہارا دیا جا سکے۔