غزہ پر اسرائیلی جنگ کے دوران مختلف ممالک کی جانب سے اسرائیل کو اسلحہ اور فوجی نوعیت کا سامان فراہم کیے جانے سے متعلق الجزیرہ کی ایک تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی ہے، جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 51 ممالک اور خودمختار خطوں سے اسرائیل کو فوجی سامان منتقل ہوتا رہا۔ اس تحقیق میں امریکہ، بھارت، رومانیہ، تائیوان اور جمہوریہ چیک کو سب سے بڑے سپلائرز میں شمار کیا گیا ہے۔
الجزیرہ کی اس رپورٹ کے مطابق یہ معلومات بنیادی طور پر اسرائیلی ٹیکس اتھارٹی کے درآمدی ریکارڈ، کسٹمز ڈیٹا، اور دیگر سرکاری دستاویزات کے تجزیے سے حاصل کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اکتوبر 2025 تک اسرائیل میں مجموعی طور پر 2603 فوجی نوعیت کی کھیپیں داخل ہوئیں، جن میں گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد، اسلحے کے پرزے، بکتر بند گاڑیوں کے حصے اور دیگر جنگی سازوسامان شامل تھا۔ ان تمام درآمدات کی مجموعی مالیت 3.22 ارب شیکل یعنی تقریباً 885.6 ملین ڈالر سے زائد بتائی گئی ہے۔
تحقیق کے مطابق ان درآمدات کا بڑا حصہ جنگ کے آغاز کے بعد ریکارڈ کیا گیا، اور خاص طور پر بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) کے جنوری 2024 کے اس حکم کے بعد، جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کی کارروائیوں میں نسل کشی کے ممکنہ خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور تمام ریاستوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، اس کے باوجود اسلحے کی فراہمی میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھا گیا۔
اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کو سب سے زیادہ عسکری سامان فراہم کرنے والا ملک امریکہ رہا، جس نے مجموعی درآمدات کے 42 فیصد سے زیادہ بھیجا۔ اس کے بعد بھارت دوسرے نمبر پر رہا جس کا حصہ تقریباً 26 فیصد بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ رومانیہ، تائیوان اور جمہوریہ چیک بھی بڑے سپلائرز میں شامل رہے۔ مجموعی طور پر یورپی یونین کے ممالک نے تقریباً 19 فیصد حصہ ڈالا، جبکہ مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا سے بھی قابل ذکر مقدار میں سامان پہنچا۔
رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کچھ ممالک نے عوامی سطح پر اسرائیل پر تنقید کی یا اسلحہ کی ترسیل محدود کرنے کے اعلانات کیے، لیکن عملی طور پر درآمدات مکمل طور پر بند نہیں ہوئیں۔ مثال کے طور پر اسپین، کینیڈا، فرانس، اٹلی، جرمنی اور برطانیہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان ممالک نے مختلف سطح پر پابندیوں یا معطلیوں کا اعلان کیا، مگر اسرائیلی کسٹمز ڈیٹا کے مطابق ان اعلانات کے بعد بھی متعدد کھیپیں اسرائیل پہنچتی رہیں۔ بعض صورتوں میں فوجی پرزے تیسرے ممالک کے ذریعے بھی منتقل کیے گئے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں ترکیہ، برازیل، سوئٹزرلینڈ، سنگاپور اور چین جیسے ممالک کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن سے بھی مختلف اقسام کے عسکری یا فوجی نوعیت کے سامان اسرائیل پہنچے، اگرچہ ان میں سے بعض ممالک نے بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلوں کی حمایت کی تھی اور جنگ بندی کے مطالبات بھی کیے تھے۔
قانونی ماہرین نے اس صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی قانون، خاص طور پر جینوسائیڈ کنونشن کے تحت ریاستوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی ممکنہ نسل کشی کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ ماہرین کے مطابق اگر کسی ملک کو یہ علم ہو کہ فراہم کیا جانے والا اسلحہ یا فوجی سامان جنگی جرائم یا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں استعمال ہو سکتا ہے تو ایسی سپلائی قانونی اور اخلاقی طور پر سوالات کھڑے کرتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ غزہ میں جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، جہاں اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر کے مطابق اکتوبر 2025 تک تقریباً 81 فیصد عمارتیں یا تو تباہ ہو چکی تھیں یا شدید متاثر ہوئیں۔ اسی طرح ہزاروں شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔ دھماکہ خیز مواد اور بموں کے بڑے پیمانے پر استعمال کو اس تباہی کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو فراہم کیے گئے ہتھیاروں میں سب سے بڑا حصہ دھماکہ خیز مواد اور مٹیریل کا تھا، جو کل درآمدات کا تقریباً 62 فیصد بنتا ہے۔ اس میں بم، میزائل، گرینیڈز اور دیگر جنگی ہتھیار شامل تھے۔ اس کے علاوہ بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کے پرزے بھی بڑی مقدار میں درآمد کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران کئی مواقع پر ایسے بھی ادوار آئے جب بظاہر جنگ بندی یا وقفے موجود تھے، لیکن انہی اوقات میں بڑے پیمانے پر اسلحہ اسرائیل میں داخل ہوتا رہا۔ 2025 کے ابتدائی مہینوں میں ایک بڑی کھیپ صرف ایک ہی دن میں اربوں شیکل مالیت کی اسرائیل پہنچی۔
تحقیقی رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ جنگ کے بعد بھی اسلحے کی ترسیل مکمل طور پر نہیں رکی۔ 2025 کے آخری دو مہینوں میں بھی کروڑوں ڈالر مالیت کا عسکری سامان اسرائیل پہنچا، اور مجموعی طور پر جنگ بندی کے بعد بھی کم از کم 220 مزید کھیپیں مختلف ممالک سے اسرائیل داخل ہوئیں۔