ڈینگی اور موسمیاتی تبدیلی کا تعلق: کیا بڑھتا درجہ حرارت مچھروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہا ہے؟

دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات صرف موسم تک محدود نہیں رہے بلکہ انسانی صحت بھی اس سے براہِ راست متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ، بے ترتیب بارشیں اور نمی میں تبدیلی ڈینگی پھیلانے والے مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان سمیت کئی ممالک میں ڈینگی کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ڈینگی وائرس ایڈیز ایجپٹائی (Aedes Aegypti) نامی مچھر کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ یہ مچھر عموماً گرم اور مرطوب ماحول میں تیزی سے افزائش پاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث کئی ایسے علاقے بھی ڈینگی کے خطرے کی زد میں آ رہے ہیں جہاں ماضی میں یہ بیماری کم یا نہ ہونے کے برابر تھی۔

پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران درجہ حرارت میں اضافے اور بارشوں کے غیر متوقع نظام نے ڈینگی کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق شدید بارشوں کے بعد مختلف مقامات پر جمع ہونے والا پانی مچھروں کی افزائش گاہ بن جاتا ہے، جبکہ طویل گرم موسم ان کی زندگی کے دورانیے اور وائرس کی منتقلی کی صلاحیت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ڈینگی کا سیزن بھی طویل ہوتا جا رہا ہے۔ پہلے یہ بیماری زیادہ تر مون سون کے مہینوں تک محدود سمجھی جاتی تھی، تاہم اب سال کے دیگر حصوں میں بھی کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال نے صحت عامہ کے نظام کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر عالمی حدت میں اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو آئندہ برسوں میں ڈینگی کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق صرف اسپرے مہمات کافی نہیں ہوں گی بلکہ شہری منصوبہ بندی، صاف پانی کی نکاسی، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی پالیسیوں اور عوامی آگاہی کو بھی ترجیح دینا ہوگی۔

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈینگی محض ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی سے جڑا ہوا ایک ماحولیاتی چیلنج بھی بن چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں پاکستان سمیت دنیا کے کئی خطوں میں ڈینگی کے کیسز اور اموات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں